کھڑکی

0 comments

بند کھڑکی کے ادھ کھلے پٹ کی داستاں یا تو ہوا کے جھونکے جانتے ہیں یا اس سے متصل بھاری بھر کم در و دیوار جو سالوں سے اپنے وجود کی ضد کو لیے زمین کے سینے پہ تنے رہتے ہیں .اس کھڑکی کے پیچھے محض اندھیرا ہی نہیں ایک تجسس بھی ہے جو اس کے اندھیرے سے کہیں زیادہ تاریک ہے اور مکمل ہے.... ناجانے اس کے پیچھے کون ہے، کیوں ہے اور کب سے ہے.
کوئی ہے، تو کیوں ہے
کوئی تھا، تو کیوں تھا
کوئی ہوگا، تو کیوں ہوگا
یقین اور گمان آپس میں الجھتے رہتے ہیں لیکن کھڑکی کے پاس جانے کی ہمت نہیں ہو پاتی مبادا....... اس سے کہیں اپنا یقین نہ ٹوٹ جائے.اور وہاں صرف اندھیرا ہی موجود ہو.................!

ملک انس اعوان

سیال

0 comments

یہ تمنائے بیتاب جو جو میرے اندر جل جل کر اور گھٹ گھٹ کر آتشیں سیال مادے کا روپ دھار چکی ہے اور ایک نامعلوم آتش فشاں سے میری جانب دوڑتی چلی آ رہی ہے. میرا بکھرا وجود اس کی زد میں ہے اور میں بے بس، بے بس اس طرح سے کہ اپنے کرچی کرچی وجود کے کس حصے کو بچاؤں اور کس کو چھوڑ دوں، میرا قوت فیصلہ، میرا قوت ارادی وہ بھی تو انہیں کرچیوں میں ہی کہیں کھو گیا ہے. ہر کرچی منفرد اور ہر کرچی میں میرا عکس ہے، وہ سیال گرم مادہ میری کرچیوں کو نگلتا جا رہا ہے، آہستہ آہستہ میرے رنگ، میرا تخیل، میری سوچ، میرے جزبے، میرے احساسات سب کچھ نگلتا جا رہا ہے. میں ختم ہو رہا ہوں. میرے وجود کی آخری رمق اس دھویں میں ہیں جو بے اختیار ہوا میں مدغم ہوتا چلا جا رہا ہے....... گاڑی موٹر وے کے کنارے رک چکی ہے، میں گویا گمان سے بیدار ہوا اور بونٹ کی جانب دیکھا جہاں سے دھواں اٹھ رہا تھا،ہاں یہ وہی سیال مادہ ہو گا جو گمان سے حقیقت میں آ چکا ہے اور سب کچھ جلائے جا رہا ہے.
ملک انس اعوان
یکم اگست 2017

کتنی دیر لگتی ہے؟

0 comments

سحر کے ماتھے پر
روشنی کی کرنوں کو
بے طرح بکھرنے میں
کتنی دیر لگتی ہے؟
ضروری نہیں یہ خاموشی
ہر بار معتبر بھی ہو
بات کو بدلنے میں
کتنی دیر لگتی ہے؟
بات تو زرا سی ہے
اپنی خوشی تو ہے، سو ہے
کسی کا غم سمجھنے میں
کتنی دیر لگتی ہے؟
خواب ہوں بھلے یہاں
دلوں میں پختگی نہ ہو
خواب کو بکھرنے میں
کتنی دیر لگتی ہے؟

ملک انس اعوان

کچھ کشمیر کے بارے میں

0 comments
جدوجہد آزدی کشمیر کے ضمن میں پاکستان کے اند بیٹھ کر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ  بحیثیت پاکستانی جہاد کشمیر کی بذور شمشیر جدو جہد پانی میں "مدھانی" چلانےسے زیادہ کچھ نہیں ہے ۔ کیونکہ ریاست اس سلسے میں بالکل بھی سنجیدہ نہیں ہے۔ اس لیے چاہے جتنی بھی مدھانی چلا لیں یہاں سے مکھن نکلنے والا نہیں ہے ، ہو سکتا ہے آپکو میری بات سے خلاف ہو یا آپ اسے جہاد سے بھاگنے کا ایک پہلو مان رہے ہوں تو ٹھیک ہے یہ آپکی جزباتی وابستکی کا اثر ہے لیکن زرا ٹھنڈے دماغ سے سوچیے کہ اگر یہ معاملہ کم ازکم (دوبارہ "کم از کم" پڑھیے) فاٹا ریجن و دیگر سے بھی اہم ہوتا تو اس کے لیے اب تک ریاست کی جانب سے بیانات کے ہوائی فائر سےہٹ کرکوئی بڑا نہ صحیح ،کوئی چھوٹا سا بھی فوجی آپریشن ترتیب دیا گیا ہو تو بتائیے۔الٹا صورتحال یہ ہے ایک مخصوص طبقے کو چھوڑ کو جہاد کشمیر کے بہت سے متحرک لوگ آج بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنے "ثواب" کا حساب کتاب دے رہے ہیں ۔ان لوگوں میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو خالصتاً ریاست کے لیے ہی ماضی میں اپنا تن من دھن پیش کر چکے ہیں ۔
جبکہ بدلے میں انہی کی محنت کی بدولت پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ سے لے کر دیگر عالمی فورمز پہ کشمیر کاز کا اپنے ریاستی مفاد کے لیے بے دریغ استعمال کیا گیا ہے ، حلانکہ جہاں ہماری خارجہ پالیسی ناکام ہوتی دکھائی دیتی ہو وہاں ہم دنیا کے سامنے کشمیر کاز کی پرانی فائل اٹھا کر دنیا کو پڑھ کر سنانا شروع کر دیتے ہیں ۔
لیکن اگر کسی نے اپنا خون ، جان ، مال ، جوانی اس مشن میں صرف کیا ہے تو وہ ہم جیسے ہزاروں بلکہ لاکھوں سے افضل ہے ،اور وہ اللہ سے اپنی قربانی اور خلوص کا صلہ ضرور پائے گا۔
دوسری جانب کرنے کا اصل کام یہی ہے کہ عام عوام میں اس سے متعلق شعور بیدار کیا جائے اور کشمیر کے مسئلے کو دلوں زہنوں اور کتابوں میں تا پائیدار حل زندہ رکھا جائے ، کیونکہ یہ ہمارے ایمان کا تقاضا بھی ہے اور ریاست کی ضرورت بھی۔۔۔!
(ایک مسلمان بن کر لکھا ہے ، پاکستانی بن کر نہیں )
ملک انس اعوان

اپنی تسلی کے لیے

2 comments


 کسی بھی شے میں جب نظر شامل ہو تو ہم اسے منظر کہتے ہیں، منظر کا سفر آنکھ سے شروع ہوتا ہے اور دل پہ قیام کرتا ہے، پھر رنگ اور ان کی تاثیر علیحدہ علیحدہ ہو کر دل کی باریک رگوں میں اترنے لگتے ہیں، اور ذہن انہی رگوں سے احساسات نچوڑ کر تخیل (Imagination) کے سٹیج پر چشم زدن میں نت نئے کردار تشکیل دیتا چلا جاتا ہے . پردہ ہٹتا ہے. دل تماشائی بن جاتا ہے اور تخیل کے اسٹیج پہ برق رفتاری سے یکے بعد دیگرے خوشی، غم، حیرت، وجد، رقص اور خوف کے ادوار گزرتے چلے جاتے ہیں، ایک ہاہوکار مچتی ہے، اور تب تک مچی رہتی ہے جب تک یہ تماشبین دل، تماشے کے ختم ہونے کا اعلان نہیں کرتا. اعلان کر دیا جاتا ہے، پردہ گرا دیا جاتا ہے.
 اور ایک نیا منظر آنکھ سے دل کی جانب سفر شروع کر چکا ہوتا ہے....!
ملک انس اعوان


جستجوئے یقیں

0 comments
ہم ہمیشہ سے ہی دو ہی رہے ہیں، ایک "یہ" اور ایک "وہ"۔
۔"یہ" وہ ہے جو"منظر" میں موجود ہے . یہ تربیت یافتہ بھی ہے اور تربیت پزیر بھی، اس کا کچھ حصہ میرے اختیارا میں ہے جسے میں مٹی کے برتن کی طرح سوچ کے مدار پہ ڈھال، سنبھال اور اتار سکتا ہوں . بیک وقت بنا سکتا ہوں، بگاڑ سکتا ہوں۔
جبکہ اسی "یہ" کا وہ حصہ جو میرے بس میں نہیں ہے وہ لوگوں کے ذہنوں میں انکے میرے متعلق احساسات کی صورت میں موجود ہے. یہاں معاملہ اختیار کا نہیں "نظر" کا ہے۔
"وہ " وہ ہے جو اصل میں موجود ہے لیکن منظر میں موجود نہیں ہے، یہ وہی" وہ "ہے جو باہر آنا چاہتا ہے،لیکن اپنے غلاف کے اندر لپٹا ایک جانب دھرا ہوا ہے، بے چین بھی ہے اور بیزار بھی، بیمار بھی اور لاچار بھی. اس بیچارگی و بیماری کا علاج صرف" یقین "کے ذائقے میں دھرا ہے۔
ایسا یقین جو امید پہ حاوی ، حقیقت پہ مبنی، تخیل میں کامل اور سلسلوں میں مکمل ہو۔

تحریر
ملک انس اعوان


ڈر اور لالچ

0 comments
ہزار نسخوں، کتابوں، تحریری و تقریری مواد سے کہیں زیادہ کارآمد شے آپکا اپنا زہن ہے. یہ کیسے اور کس معیار کے تحت فیصلے کرتا ہے، کہاں کہاں کیسے تبدیلیاں قبول کرتا ہے یہ سمجھنا سب سے زیادہ ضروری ہے. اس ضمن میں وہ چیزیں جو زہن اور عقل پہ سب سے زیادہ پر اثر ہیں ان میں سے پہلا "ڈر" اور دوسری چیز "لالچ"ہے . 
ایک لمحے کے لیے رکیے.... یہ دونوں چیزیں اپنی ذاتی حیثیت میں بری نہیں ہیں بلکہ محض فطری احساسات ہیں. ان فطری احساسات کو Deal کیسے کرنا ہے اس کے لیے خالقِ فطرت و قدرت کا تیار کردہ انسان کے لیے آخری اور بہترین user manual اٹھا لیجیے اور سمجھیے کہ خالق نے بار بار کیوں آیات مبارکہ میں کہیں دوزخ سے ڈرایا ہے اور کبھی جنت کے حسین مناظر کی خیالی تصویر سے نیکی کی جانب راغب کیا ہے. 
اب پھر رکیے...... غور کیجیئے کہ الله آپکے نفس کو kill نہیں کر رہا بلکہ modify کر رہا ہے کبھی جہنم کے ڈر سے اور کبھی جنت کے لالچ سے، بس یہی کچھ آپکو کرنا ہے. 
یعنی.... خود سے لڑنا نہیں بلکہ اپنی ذات سے مذاکرات کرنے ہیں، اس کو مائل کرنا ہے اور اس عمل کے پریکٹیکلی کئی طریقے ہیں اور کئی انداز، حسب ضرورت کسی بھی دوا کا استعمال کیا جا سکتا ہے، ان طریقوں پہ پھر کبھی تفصیل سے بتایا جائے گا اب آ جائیے 
"ڈر " کے ذکر کو کھولتے ہیں. 
ڈر پہ قابو پائیے،کیونکہ انسانی ذہن ایک وقت میں صرف ایک ہی قسم کے ڈر کا سامنا کر سکتا ہے، ڈر کا جھمگٹا اس کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے اور باقی صلاحیتوں پہ بھی غالب آنے کی کوشش کرتا ہے. 
لہذا ڈر کو خدا تک محدود کر دیجیے اور باقی ہر قسم کے خوف سے خود کو آزاد کر لیجیے. کیونکہ جس قدر آپ اپنے ڈر کو قابو میں رکھ سکیں گے اتنی ہی تیزی سے امید آپ کے اندر پیدا ہوگی اور فروغ پائے گی. 
دوسری چیز تھی"لالچ"یہ بھی انسان کے اندر خدا کی جانب سے ایک Built in Function ہے ،لالچ بذات خود اپنے اندر ڈھیروں احساسات کا مجموعہ ہے مگر اس کے اجزاء ترکیبی  یعنی recipe میں سب سے اہم چیز چاہت ہے. آپ کسی بھی چیز کو  کسی بھی حد تک چاہ سکتے ہیں لہذا اپنی چاہت کو مثبت چیزوں میں  اس طرح تقسیم کر دیجیے کہ منفی اشیاء کے لیے آپکے پاس کوئی چاہت باقی نہ رہے.
آپکا یہی عمل آپکی توجہ کو بھی تقسیم کرتا ہے. اور جب توجہ تقسیم ہوتی ہے تو وقت کی تقسیم بھی خود بخود ہوتی چلی جاتی ہے. 
آپ سے زیادہ آپ کو کوئی نہیں جانتا ہے لہذا اپنے آپ سے دوستی کیجیئے، سمجھائیے اور احساسات کو قابو کرنے میں خود کفیل ہو جائیے. 


تحریر 
ملک انس اعوان