عالمی طاقت اور ریاستیں

0 comments

عالمی سطح پر عالمی طاقتوں نے اپنے مقاصد کو جن کو کوئی بھی کوئی بھی نام دے دیا جائے، گزشتہ کچھ عرصے میں دوسری ریاستوں کو اس طرح استعمال کیا کہ استعمال ہونے والی ریاستوں نے اسے اپنی بقا سمجھا ہے، اور اس so called بقا میں عزت و جان تک کو بے دریغ صَرف کیا ہے. آج  تمام شراکت دار اپنے اپنے حصے کی کارکردگی اور نتائج کو سمیٹ رہے ہیں. یہاں بالکل غیر جانبدار ہو کر سوچنے کی ضرورت ہے کہ اس ہاہوکار کے درمیان اتنے بڑے ، منظم اور جدید فوجی structures  اور Think tanks کی موجودگی کے باوجود چند non state actors (چاہے وہ کسی مخصوص وقت میں کسی سے بھی مدد وصول کرتے رہے ہوں) کے آگے بے بس اور مجبور نظر آ رہے ہیں. شاید قومی ترانے اور قومی اداروں کی ذہن سازی آپکو یہ تسلیم کرنے سے روکے مگر حقیقت یہی ہے کہ طاقت کے گزشتہ نظریات اس وقت مادی و مالی وسائل کی بھر پور مدد کے باوجود اپنے مطلوبہ اہداف کے حصول میں تاحال ناکام رہے ہیں.
کیونکہ ہم بھی ایک قوم کا حصہ ہیں اس لیے ہم شاید یہ سوچتے ہیں کہ آج امریکہ کے مقابلے میں چین آ جائے گا، مگر کینوس کا یہ منظر بھول جاتے ہیں کہ وہی طاقت جو آج ہمارے لیے زیر بحث ہے چند غیر ریاستی قوتوں کے آگے بے بس ہے. ہم ابھی تک ایسی قوتوں کو عالمی طاقت کا stakeholder نہیں سمجھتے ہیں ،ان کو stakeholder نہ سمجھنے کا سب سے زیادہ نقصان شاید ہمیں ہی اٹھانا پڑ رہا ہے. اس کے علاوہ ایک پہلو یہ بھی ہے کہ طاقت کا یہ non state نظریہ اگر عالمی سطح پہ prevail کرتا ہے تودنیا کے نقشے پہ جدید منظر نامہ کیا بنتا ہے ؟...... یہ وہ نقطہ ہے جس پہ دنیا بھر کی ریاستیں وسائل صَرف کر رہی ہیں.
انس

باعزت بَری

0 comments

گنگا رام ہسپتال کے مرکزی دروازے پہ فیملی کے ساتھ کھڑے ہوئے موٹر سائیکل سوار نے جیسے ہی ہیلمٹ سر سے اتارا، ٹریفک وارڈن چالان کی بدنام زمانہ کاپی لیے موٹر سائیکل کے سامنے آ کر کھڑے ہو گئے . اس کے بعد موصوف کے آدھ درجن اہل خانہ نے روایتی جوش و خروش میں آ کر وارڈن محترم کا خوب گھر پورا کیا. ایسے ایسے پنجابی جملوں کا تبادلہ کیا گیا کہ خدا کی پناہ، قصہ مختصر وارڈن صاحب کو ہسپتال کے گارڈز نے آ کر بے عزت بری کروایا ......!

ملک انس اعوان

مگروں لایاہ

0 comments

بہت ہی تنگ گلی میں آمنے سامنے کثیر المنزلہ شادی ہال بنے ہوئے تھے، ایک ہی شادی ہال میں بیک وقت اوپر اور نیچے نیز بیسمٹ میں بھی شادی کی تقاریب چل رہی تھیں ...... ہوا یوں کہ گلی نما سڑک پہ ٹریفک جام ہوگیا، اب نئے نویلے شادی شدہ جوڑے شادی ہال کے دروازوں پہ کھڑے اپنی اپنی سجی ہوئی گاڑیوں کا انتظار کر رہے تھے.... جہاں سائیکل نہیں گزر پا رہی تھی وہاں گاڑی کیا گزرتی بالآخر شدید گرمی میں شیروانیاں پہنے دلہہ برادران نے اپنا وزن اپنے یاروں کے کندھے پر ڈال دیا اور دلہنوں کو انکے والدین نے بیس کلو کی بوری کی طرح اٹھا کر دور کھڑی گاڑیوں میں پہنچایا......بلکہ یوں کہیے "مگروں لایاہ " 😂

ملک انس اعوان

خط بنام عادل فیاض 2

0 comments

ریہائش گاہ ،اسامہ طاہر غیر شادی آبادی ،لائل پور
18 اگست 2018
محترم عادل فیاض بھائی
السلام علیکم! امید ہے کہ آپ صحت و ایمان کی بہترین حالت میں ہوں گے، تحریک اسلامی کے لیے آپ جو محنت کر رہے ہیں وہ جدید ابلاغی وسائل کے توسط سے ہمیں وقتاً فوقتاً معلوم پڑ رہا ہے(معنی خیز مسکراہٹ) . قصہ مختصر گزشتہ خط میں آپنے جس پوٹھوہاری جگت بازی سے کام لیا تھا وہ اپنے آپ میں ایک عجوبہِ انداز تحریر ہے، نیز املا کی عام غلطیوں نے خط کو چاند تاروں سے بھری ایک کہکشاں بنا دیا تھا. یقیناً جگت بازی سمیت ایسے بہت سے میدان ہیں جہاں راقم الحروف قبل از تقابل شکست تسلیم کرتا ہے، ان الفاظ کو محفوظ رکھیے تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے.
ارے ہاں نامہ بر کے بقول آپ اسامہ غیر شادی آبادی کے ہاں آئے ہوئے تھے چناچہ انکو ہماری جانب سے ترس بھرا سلام پیش کیجیئے، سید عاشر عرفان کاظمی کی خدمت میں بھی سلام پیش کیجیئے گا. برادران کے ذکر سے یاد آیا کہ عثمان جکھڑ بھائی حادثے میں اپنے چہرے کی ہڈی تڑوا بیٹھے ہیں، یہ سنتے ہی دل ڈوب گیا مگر چند اسباب کی بنا پر موصوف کی غیر مرئی عیادت بھی نہیں کر سکا، ممکن ہو سکے تو ہمارا حالِ دل ان تک پہنچا کر شکریے کا موقع عطا کیجیئے . ممکن ہو سکے تو کل غریب خانہ تشریف لے آئیں کیونکہ بروز پیر بندہ ناچیز رزق حلال کمانے کی جدوجہد میں مصروف ہو گا ،اگر آپ آتے ہیں تو آپ کو پچھلی بار کی طرح بابا وارث شاہ رح کے دربار کے" مخانے" کھلاؤں گا. دربار پہ گزشتہ حاضری کے دوران آپ نے اپنی شادی کی جو دعا کی تھی شاید وہ ایک اور حاضری کا تقاضہ کر رہی ہے. اس بار ایک کی بجائے دو دیے جلا کر دیکھتے ہیں. آخر کوشش کرنے میں حرج ہی کیا ہے.آپ کے جوابی شاہکار کا بے چینی سے منتظر ہوں.
آپ کا بھائی
عاجز ناچیز خاکسار احقر ادنی پست نمانا محمد انس اعوان
آستانہ عالیہ گھریلویہ مستقلیہ شیخوپورہ شریف

خط بنام عادل فیاض 1

0 comments
اقامت خانہ برائے طلبا، عالمی اسلامی مدرسہ اسلام آباد
17 اگست 2018
محترم عادل فیاض بھائی
السلام علیکم! امید ہے کہ آپ صحت و ایمان کی بہترین حالت میں ہوں گے . اور تحریک اسلامی کی سماجی میڈیا پہ جدو جہد میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہوں گے. آپکا برقی خط فیس بک میسنجر پہ موصول ہوا جس میں آئی فون توڑنے کے حوالے سے مشورہ دیا گیا تھا.آپ کے ترک النسل ہونے کا گمان اپنی جگہ، عالمی بین الاقوامی حالات اپنی جگہ مگر مجھے آپ کی اس بات پہ شدید حیرت ہوئی کیا آپ جانتے نہیں کہ گزشتہ 2 سال سے ایک مقامی کمپنی کا تیار کردہ "کیو موبائل ایل ٹی سیون ہنڈرڈ پرو شریف" ہمارے زیر استعمال ہے. چنانچہ اس کو توڑنے کا نہ تو امریکہ کو نقصان ہوگا اور نہ ترکی کو فائدہ البتہ ایک غریب اور معقول شخص اپنے دکھ درد کے ساتھی سے محروم ہو جائے گا.
علاوہ ازیں آپ کی خیریت مطلوب ہے، جلدی خط لکھ کر آگاہ کیجیئے گا. شادی آپ نے کی نہیں وگرنہ لگتے خط بھابھی کو سلام بھیج دیتے اور بچوں کو پیار. دعاؤں میں یاد رکھیے.
آپکا بھائی
محمد انس اعوان
حامل اکاؤنٹ ہذا، آستانہ عالیہ مستقلیہ گھریلویہ شیخوپورہ شریف

چائے اور رنگت

0 comments

ہماری ذاتی کوشش ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ من میں آئی لہر کے ہوتے سمے "چائے" کی تمام تر فیوض و برکات نیز جملہ خصوصیات سے سناشائی حاصل کر سکیں. بذبان اصحاب معلوم ہوا ہے کہ چائے نوشی کے سبب رنگت میں سیاہی اتر آتی ہے..... دیکھیے  بات تو یہ ہے کہ اگر آپ بحیثیت پنجابی رنگت کے حوالے سے پریشان ہیں تو بھلے پریشان رہیے کیونکہ manufacturing fault کو تو کسی صورت بھی درست نہیں کیا سکتا ہے.😂 اس سلسلے میں رنگت سے زیادہ اعمال کی فکر زیادہ اہمیت رکھتی ہے کیونکہ چہرے پہ عین فطری "نور" اعمال صالح سے مشروط ہے. اللہ کا شکر ادا کیجیئے اور شکرانے کی چائے پیجیے. بندہ عاجز ناچیز خاکسار عدنی پست نمانا کو دعاؤں میں یاد رکھئے.
آداب عرض ہے.... والسلام

ملک انس اعوان

خدیجہ کو انصاف دیجیے..!

0 comments

کئی ماہ پہلے  لاہور میں "Herself " نامی ایک ادارے کا "Fireside Chat with Khadija" کے عنوان سے پروگرام تھا, کافی دن سے میں اس کیس کے حوالے سے بہت کچھ سن چکا تھا،
ہال میں بیٹھے بیٹھے پروگرام کے آغاز سے پہلے  مختلف سائٹس پہ اس کیس کے حوالے سے پڑھتا رہا، بالآخر پروگرام کا آغاز ہوا اور گفتگو چلتی رہی، عموماً ایسی جگہوں پہ بات fundamentalism،مولوی حضرات پہ طعنہ زنی، جہالت وغیرہ سے شروع ہو کر معاشرے کی بے حسی پہ آ کر ختم ہو جاتی ہے. مگر مزکورہ خاتون خدیجہ کی گفتگو اللہ کے نام سے شروع اور بار بار اللہ سے امید اور یقین پہ ختم ہو رہی تھی، ہر سوال کے جواب میں یہی فارمیٹ چلتا رہا جس سے وہاں بیٹھے بائیں بازو کے عناصر کی حالت  غیر ہو رہی تھی.
میں کچھ اور سوچ کر آیا تھا لیکن جیسے جیسے گفتگو اختتام کی جانب جا رہی تھی میں مزید حیرت میں پڑتا جا رہا تھا.
سیشن کے اختتام پہ کسی دل جلے سرخے نے تمام مسائل کا حل سیکولر state بتایا تو میرے بولنے سے پہلے ہی حاضرین میں موجود ایک جدید تراش خراش والے صاحب نے موصوف کی وہ دھلائی کی جو شاید میں بھی نہ کر پاتا.
قصہ مختصر سوچنے والی بات یہ ہے کہ ایک جانب تو ہم لوگ ہیں جو اپنے علاقے کے چوہدری کے آگے بھی بات کرنے سے ڈرتے ہیں اور اکثر اسے حکمت کا نام دے کر کان لپیٹ کر سو جاتے ہیں،لیکن یہ ہمارا ہی معاشرہ ہے جس میں ہمارے علاوہ "خدیجہ" اور ایسے ہی دیگر لوگ بھی رہتے ہیں جو باقاعدہ ظلم کے خلاف اور ظالم نظام کے خلاف نکلتے ہیں اور اپنے اپنے انداز میں کوشش کرتے ہیں.  کہیں یہ کوشش سیاسی بھی ہوتی ہے، اجتماعی بھی اور  انفرادی بھی، لیکن ان سب کوششوں کو کرنے والے ہاتھوں کی مدد کرنے کے لیے کتنے ہاتھ آگے بڑھتے ہیں؟
یہ تعداد  افسوس کے ساتھ ہمارے معاشرے کے اجتماعی شعور کی عکاس ہے. ہر قسم کے مظلوم بھلے وہ مسنگ پرسن ہوں یا  سسٹم کی کمزوریوں کا نشانہ بننے والی خدیجہ جیسے دیگر کردار، ان سب کی آنکھیں ہماری جانب اٹھی ہوئی ہیں. ہر ظلم پہ آواز اٹھائیے، بلا تفریق ان کو اپنے ہاں جگہ دیجیے ...یہ ادارے خدا نہیں ہیں اور نہ ہی ہو سکتے ہیں، ان میں سینکڑوں loopholes تاحال موجود ہیں جو موجودہ نظام حکومت میں صرف اجتماعی شعور کی بیداری سے ہی حل ہو سکتے ہیں.
یہی سوشل میڈیا یہی زرائع تبدیلی کا باعث بن رہے ہیں، انکو مثبت تبدیلیوں کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے. کیونکہ ہم سب اس کے استعمال کے حوالے سے بھی جواب دہ ہیں.

#JusticeForKhadija