رشتے پرندے

0 comments

رشتے بھی کسی حد تک پرندوں کی طرح ہی ہوتے ہیں، انکو اول تو پالیے نہیں، اگر پالیے تو خوب دیہان سے پالیے. اور جب پر نکل آئیں تو مزید قید میں مت رکھیے. کیونکہ ایسا کرنے سے یا تو وہ پنجرے کو اپنی دنیا سمجھنے لگے گا یا پنجرے سے سر پھوڑنے کی کوشش کرے گا. اس کے پَر کبھی مت کاٹیے.... ورنہ وہ بظاہر زندہ پرند اڑنے کی چاہ میں اندر سے مر جائے گا. جو اڑنا چاہے اسے اڑا دیجئے، جو لوٹ آئے اسے پناہ دیجیے لیکن............ پنجرہ توڑ دیجئیے . آپ کو بس اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہے تاکہ آپ کے لیے اور آپ کے بعد والوں کے لیے قدرت اپنے حقیقی رنگ میں نکھر سکے.
ملک انس اعوان

اٹک کے حجام

0 comments

اگر آپ اٹک کے باہر کسی اور ضلع سے تعلق رکھتے ہیں تو کچھ عرصہ اٹک شہر میں ریہائش رکھنے کے بعد آپ یہ بخوبی جان پائیں گے کہ یہاں کے سب سے زیادہ نخرے والا طبقہ "حجام" ہیں، حیرت تو ہوئی ہو گی!
ہونی بھی چاہیے کیونکہ بات ہی کچھ ایسی ہے، دراصل راولپنڈی کے قریب ہونے کی وجہ سے "پنڈی بوائز" کا ایک
مخصوص انداز کسی حد تک یہاں کے نوجوانوں میں بھی پایا جاتا ہے. لہذا عموماً شہری علاقوں میں نوک دار اور غیر معمولی داڑھی کے خط اور بالوں کے انداز زیادہ دیکھنے کو ملیں گے. اول تو آپ کو حجام سے فون پہ وقت لینا پڑے گا اور ایک اچھے بچے کی طرح عین وقت پر کرسی تک پہنچنا بھی ہو گا ورنہ آپ کے حصے کا وقت صدر مملکت کسی اور کے لیے وقف کر چکے ہوں گے، کھانا کھانے کے وقت یا  انتہائی اوقات میں اگر آپ کسی مجبوری سے بھی چلے جائیں تو بڑا پکا سا منہ بنا کر انکار سننا پڑے گا. اور تو اور اگر آپ ہماری طرح وسطی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ہوئے تو آپ کو اندر ہی اندر میری طرح جلنا بھننا بھی ہو گا کہ" واہ ملک صاحب بستی جئی نہیں ہو گئی؟ "کیونکہ کم از کم ہماری اپنی صورتحال یہ ہے کہ ایک تو ہم پہلے ہی ماشاءاللہ سادہ سے ہیں اور اگر نائی کی دوکان پر چلے بھی جائیں تو کم از کم اپنے علاقے میں ٹھیک ٹھاک پروٹوکول وصول کرنے کی عادت رکھتے ہیں، یا جاتے ہی ان کے پاس ہیں جو ہمیں جانتے ہوں. ہمارے ہاں تو اگر وہ الله کے بندے کھانا بھی کھا رہے ہوں تو گاہک کو دیکھتے ہی کھانا چھوڑ دیتے ہیں. جبکہ اٹک میں جب تک نائی محترم بذات خود تمام اہم امور نمٹا نہ لیں تب تک گاہک کی جانب دیکھتے بھی نہیں اور جیب کی کھال بھی ثواب سمجھ کر اتارتے ہیں.

ملک انس اعوان

ہندسوں کا طواف

0 comments

سیاہ اندھیرے کا راج تھا ،ننھیالی ڈیرے پہ  آم کے قدیم اور بلند سایہ دار درخت کے عین سامنے چند چارپائیاں بچھی ہوئی تھیں . جن پہ ایک وین ڈرائیور اور اس کا ساتھی کھانا کھا رہے تھے جبکہ مجھ سمیت میرے چند دیگر رشتہ دار بھی وہیں چار پائیوں پہ بیٹھے ہوئے تھے. کھانا کھانے کے بعد انہوں نے برتن اوپر تلے ترتیب سے رکھتے ہوئے اجازت چاہی تو ماموں جان نے انسے مہمانوں کو دوسرے شہر سے گھر پہنچانے کا معاوضہ پوچھا تو ان میں سے ایک جو قدرے بڑی جسامت کا تھا کہنے لگا کہ "جنے دل کرے دے چھڈو ، متھہ تے بندیاں نال لگدا ایے، پیسیاں دی کیڑھی گل ایے؟"
اس کے بعد کیا مکالمہ ہوا مجھے یاد نہیں لیکن ایک جملہ کہ" واسطہ تو انسانوں سے پڑتا ہے " نے حیرت میں مبتلا کر دیا. ایک ان پڑھ اور گاؤں کے معمولی سے ڈرائیور کی بات نے دل میں گھر کر لیا. گھر کیوں نہ کرتی جس خوبصورت انداز سے اس نے انسان کو پیسے سے الگ کیا وہ لاجواب تھا. بھلے ہی اس نے یہ بات مروت میں ہی کہی ہو مگر وزن میں بھاری تھی. میرا  انتہائی قلیل مشاہدہ بتاتا ہے کہ دفتروں میں موجود سپاٹ چہروں کے حامل وہ"  ہندسے" جو ہندسوں میں اضافہ کمی کرتے کرتے صبح کو شام اور شام کو صبح کرتے رہتے ہیں، انسان کو ایک ID نمبر سے پہچانتے ہیں، انہی ہندسوں میں معاملات طے کرتے ہیں، انہی ہندسوں سے انسان کی قیمت طے کرتے ہیں واقعی انسان نہیں ہیں کیونکہ انکا" متھہ بندیاں نال نہیں لگدا، پیسیاں نال لگدا ایے ".
غرور، تکبر، اکڑی گردن، قہر آلود نگاہیں اور حقارت بھرا رویہ رکھنے والے احساسات کی چاشنی سے عاری دفتری ملازم یعنی " ہندسے "جنہیں ہمیں باامر مجبوری" انسان "قرار دینا پڑتا ہے، ایک ایسی سوچ کا شکار ہوتے ہیں جو اپنے اندر موجود احساس کمتری کا ازالہ دوسرے کے احساس کو کچل کر کرتے ہیں. انا کا ایک طوفان ان کے رگ و پے میں بہتا ہوا دل کے کونے کونے میں سے احساس کو کھرچ ڈالتا ہے. حیرت ہوتی ہے کہ وہ انسان کو ہندسوں  میں کیسے تول لیتے ہیں، مجھے بھی اس مقام حیرت سے گزرنا ہے کیونکہ شاید سلسلہ تعلیم کے بعد مجھے بھی گزرے موسم کے کپڑوں کی طرح احساسات و جذبات کی کنڈلی کو پرانی آہنی پیٹی میں رکھ کر ایک ہندسہ بن کر ساری زندگی ہندسوں کا طواف کرنا ہے.....!
تحریر
ملک انس اعوان

الو شریف

0 comments

آپ کی طبعیت آپکی پسند پہ بہت اثر ڈالتی ہے اس لیے اکثر و بیشتر آپکو وہی چیزیں زیادہ متاثر کرتی ہیں جو آپ کی طبعیت سے بہت مطابقت رکھتی ہوں، یا بہت مخالفت ، عموماً انسان کے لیے یہ دو انتہائیں ہی خاص ہوتی ہیں اس کے درمیان سب کچھ معمولی تصور کیا جاتا ہے. رہی بات "الو" کی تو اس کی پسندیدگی کی کئی وجوہات ہیں.
اس کی شخصیت جو کہ بڑی گردن، سر اور آنکھوں کی وجہ سے نہایت پر وقار بن جاتی ہے،ایک بڑا الو اگر نظر بھر کر دیکھ لے تو پورے بدن میں سنسنی دوڑ جاتی ہے. اسی باعث لوگ اس سے ڈرتے بھی ہیں اور اس سے قصے بھی منسوب کرتے ہے . اگر اس کی ظاہری شکل میں صرف آنکھوں پہ ہی لکھا جائے تو کتاب بن جائے.
اور اس کے "پر" پوچھیے ہی مت بالکل ترتیب سے جڑے ہوئے، سلیقے سے بندھے ہوئے ایسے کہ پرواز کی آواز تک پیدا نہیں ہونے دیتے. اس قدر سلیقے سے پرواز کہ زمین کی سطح کے چند انچ اوپر اڑے تو زمین پر پڑے خشک پتوں کو بھی خبر نہ ہونے دے.
عقاب یا باز کی طرح بھی ایک شکاری جانور ہی ہے. اس کی فطرت بھی وہی ہے جو عقاب کی ہی ہوتی ہے البتہ حکمت عملی مختلف ہوتی ہے.
زیادہ بھاگ دوڑ نہیں کرتا اور شکار کے لیے سورج کی روشنی کا محتاج بھی نہیں ہوتا، تسلی کے ساتھ رات ہونے کا انتظار کرتا ہے، گھات لگا کر بیٹھتا ہے، پرسکون پرواز کرتا ہے، اور خبر ہونے سے پہلے پہلے شکار کی گردن ادھیڑ  چکا ہوتا ہے.
عموماً دنیا کے ہر کونے میں مختلف شکلوں اور رنگوں میں پایا جاتا ہے. برفیلی چوٹیوں سے صحراؤں تک اس کا دائرہ محیط ہے.
_________________
آپ نے سن رکھا ہو گا کہ "محنت اس قدر خاموشی سے کرو کہ آپکی کامیابی شور مچا دے" تو اس کی عملی تفسیر الو ہی ہے کیونکہ جب یہ شکار پہ نکلتا ہے تو جو واحد آواز رات کے سناٹے کو چیرتی ہے وہ اس کے پنجوں میں جکڑے ہوئے دم توڑتے ہوئے، اس کا نشانہ بننے والے کی ہوتی ہے.....!
رہی بات اس کی طمانیت کی تو وہ اپنی مثال آپ ہے.
دن کا بے ضرر سا پرندہ رات کو جلاد بن جاتا ہے. کیونکہ اس کے دن کا امن اس کی رات کی تیاری ہوتی ہے.💗💗
ملک انس اعوان

لوگ آسان سمجھتے ہیں دراز قد ہونا

0 comments

الله نے 6 فٹ سے کچھ زیادہ قد عطا کیا ہے اور الحمداللہ صحت بھی ٹھیک ٹھاک دی ہے، اس لیے جب بھی پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے کا موقع ملتا ہے ہماری نظر ایسی جگہ پہ ہوتی ہے جہاں ہم اپنی طویل ٹانگوں کو سمیٹ کر بیٹھ سکیں وگرنہ صورت حال یہ ہوتی ہے کہ اگر گاڑی کا رخ مشرق کی جانب ہو تو ہمیں اپنی ٹانگیں شمالاً جنوباً رکھنی پڑتی ہیں، اس کے علاوہ اگر کسی اور صحت مند فرد نے ساتھ بیٹھنا ہو تو سینے کو بھی شمالاً جنوباً رکھ کر حسب عادت تانک جھانک کے لیے گردن کو بطرف کھڑکی شریف رکھنے کے لیے انتہائی شمال یا انتہائی جنوب موڑنا پڑتا ہے. چناچہ عسکری اصطلاح میں ہم ایک دلچسپ "اسٹریٹیجک پوزیشن" اختیار کر چکے ہوتے ہیں.
یوں مناظر کی لطافت گردن کی جڑوں میں بیٹھ جاتی ہے اور محض گھنٹے بھر کے سفر میں طبعیت ٹھکانے لگ جاتی ہے. اس کے علاوہ اگر پیچھے یا آگے  خواتین بھی بیٹھی ہوں تو خدا کی پناہ، دوران سفر کھانے بنانے کے طریقوں سے لے کر کس کس کا رشتہ کہاں کہاں نہیں ہو پایا، اس کی وجوہات کیا تھیں، اور اس کے معاشرے پہ کیا اثرات وقوع پذیر ہوں گے، جیسے گھمبیر مسائل تک بلا معاوضہ سننے کو ملتے ہیں. جس سے سفر میں دیکھے جانے والے مناظر کے نوٹس منتشر ہو جاتے ہیں اور انکو موبائل فون میں محفوظ نہیں کر پاتا اور نتیجتاً ایسی تحریریں جنم لیتی ہیں جن کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا.
رہے نام اللہ کا......
ملک انس اعوان

ہم درمیان والے

0 comments

عوام میں یہ خیال عام پایا جاتا ہے کہ اہلیان داڑھی شریف کے دل اور زہن رومانویت اور ادب سے خالی اور نا واقف ہوتے ہیں، جو کہ بالکل غلط تاثر ہے. آپ انکے پاس بیٹھ کر تو دیکھیے..... خاکسار نے ایک معزز عالم دین کی زبانی منبر پہ غالب کی تعریف سنی ہے، اس میں بات ساری ظرف اور ذوق کی ہے، اسی طرح ہم بذات خود ایسے آئمہ مساجد کو جانتے ہیں جن کے پاس ذاتی بیٹھک کا زیادہ تر حصہ شعر و شاعری پہ مشتمل ہوتا ہے.
سب سے دلچسپ چیز یہ ہے کہ ان کے ہاں احساسات کو حدود کے اندر اس طرح قید کیا جاتا ہے کہ گٹھن کی بجائے لطف پیدا ہونے لگتا ہے، سننے اور سنانے والے یہ بات جانتے ہی ہیں کہ "کہہ دینے" میں کوئی کمال نہیں ہوتا ہے بلکہ کمال "نہ کہہ" کر بھی کہہ دینے میں ہوتا ہے.
پچھلے دنوں ہی ایک مولانا صاحب نے اپنی لکھی ہوئی غزل سنائی تو سن لینے کے بعد  تبصرے کے لیے میری جانب دیکھنے لگے تو میں نے لمبی سانس بھر کر محض اتنا ہی کہا کہ
آپ سیدھا سیدھا کیوں نہیں کہتے ہیں جو جون ایلیاء نے کہا تھاکہ
"جو نہیں ہے وہ خوبصورت ہے "
اتنا سننا تھا کہ بے اختیار ہنسنے لگے اور کافی دیر ہنستے رہے اور کہنے لگے اٹھ شیطان بھاگ یہاں سے ....!
پاکستان کے مشہور ارادے سے درس نظامی کے آخری سال کے ایک طالب علم سے ملاقات ہوئی باتوں باتوں میں ذکر چل پڑا تو انہوں نے اپنا کلام سنانے کی خواہش کا اظہار کیا، پاس ہی چند اور طلبا بھی بیٹھ گئے، مولانا نے نظم سنانا شروع کی.. جس میں وہ حور کو مرحلہ وار عرش سے فرش پر لا رہے ہیں، شاعری واقعی خوب تھی سماں بندھ گیا، اب صورتحال کچھ یوں تھی کہ وہ مذکورہ "حور" محترمہ بس اب کے زمینِ انسان پہ قدم رکھنے ہی والی تھیں کہ مولانا نے اگلے ہی مصرعے میں موصوفہ کو دوبارہ جنت پہنچا دیا.
پیچھے بیٹھے ہوئے ایک طالب علم جو کافی انہماک سے سن رہے تھے، جھنجھلا کر ، منہ بنا کر بولے
"مولانا اگر واپس ہی بھیجنا تھا تو اتنا تکلف کیوں کیا؟"
انکی بات سن کر انکے ساتھ بیٹھے ہوئے دوسرے طالب علم نے انکا کندھا تھپتپایا اور سمجھانے کے انداز میں کہنے لگے کہ
"حافظ تجھے ایک کی پڑی ہے میں نے تو 70 حوروں کی فیملی پلاننگ کر رکھی ہے "
یہ سننا تھا کہ ضبط کے بندھ ٹوٹ گئے اور سب اتنا ہنسے کہ باہر سے انکے استاد محترم کو خیریت معلوم کرنے آنا پڑا.
باقی ہم جیسے تو اہل جبہ و دستار کے ہاں  کچھ معاملات میں قدرے" لبرل "تصور کیے جاتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے  عام افراد ہمیں مذہبی تصور کرتے ہیں :) ، اس طرح دونوں جانب اپنی گنجائش خودبخود نکل آتی ہے. اور ہم دونوں جانب سے مستفید ہو پاتے ہیں.
ملک انس اعوان

جمال

0 comments

جمال حسنِ عمل ہے 
جمال حسنِ بیاں ہے 
جمال ابر کی صورت
جمال آبِ رواں ہے
جمال موج تبسم 
جمال اشک رواں ہے 
جمال شوقِ طلب ہے 
جمال ذوقِ زیاں ہے 
جمال گوشہِ موجود 
جمال محض گماں ہے 
جمال نعرہ مستی 
جمال طرز فغاں ہے 
جمال حکمتِ منبر 
جمال حکمِ ازاں ہے 
جمال سجدہ ساجد
جمال وصفِ نہاں ہے 
جمال چشمِ مصور 
جمال اور کہاں ہے؟



ملک انس اعوان 
نوٹ :اس کا تعلق وحدت الوجود یا شہود سے نہیں ہے بلکہ محض جمالیاتی حسن کی نشاندہی ہے.