پیچیدہ

0 comments
ایک انگریزی مقولہ ہے کہ
Sanity and happiness are impossible combinations. Mark Twain
بلا شبہ درست فرمایا ،مگر اس انسان سی مخلوق کا کیا کہنا جس میں بیک وقت لاکھوں Profiles جو کہ مختلف جزئیات پہ مشتمل ہوتی ہیں پہلے سے ہی محفوظ کر دی گئی ہیں یا اپنے فہم سے انسان نے انہیں خود ہی تخلیق ،ضائع اور اپنا سکتا ہے ، یہ بھی انسان کے حسن کا ایک پہلو ہے۔۔!
یہ سوچ کے کرشمے ہیں جو ایک ہی انسان میں مختلف کردار پیدا کرتی ہے وقت سے ساتھ ساتھ انہیں پروان چڑھاتی ہے اور حالات کے مطابقت نہ پیدا ہونے پہ اس کو تبدیل کر دیتی ہے ، مجھے نہیں لگتا کہ یہ سب کوئی باہر سے آنے والی چیز ہے ،بلکہ یہ سب پہلے سے ہی انسان کے اندر موجود ہیں ،بس موقع کی مناسبت سے کونسی Profile چلانی ہے اس کا انحصار انسان کی قوت فیصلہ پر ہے۔ بس یہیں کہیں امید وغیرہ بھی موجود ہوتی ہیں۔یہ پیجیدہ Combinaton ایک خودکار نظام کے تحت کب اور کیسے جنم لیتے ہیں ہمیں اندازہ ہی نہیں ہو پاتا۔عجیب بات ہے ۔۔۔۔!
انسان ان کہکشاؤں سے بھی وسیع ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور دلچسپ بھی ۔۔۔۔!!!



ملک انس اعوان

لوگ ہنستے ہیں آپ بھی ہنسیے

0 comments
لوگ ہنستے ہیں آپ بھی ہنسیے
تیر دل سے نکال کر ہنسیے
آپ بھی سب کی وحشت سے
اپنا حصہ نکال کر ہنسیے
 شہر بھر کے سیاہ بختوں میں
اپنا سکہ اچھال کر ہنسیے
 اب کہ ہر رخ ہی انتقامی ہے
اپنا دامن سنبھال کر ہنسیے
 اپنی آنکھیں جو ہو سکے ممکن
میری آنکھوں میں ڈال کر ہنسیے

ملک انس اعوان


سر شام شکست

0 comments

ابھی کل ہی کی تو ہے بات
میں سر شام چپ سا ہو گیا تھا
سامنے پیڑ قطار اندر قطار
ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے
ایک دوجے پہ بوجھ ڈالے ہوئے
جیسے گزرتے وقت کے نوحے پڑھ رہے ہوں
سیاہی چھانے لگی تھی
افق پہ ڈوبتے سورج کی جاں
کہ جیسے نیزے کی نوک پہ آ ٹکی تھی 
پنچھیوں کے شور سے دل ڈوب رہا تھا
عجب اک آزمائش تھی
سایہ دل میں دھوپ بھری تھی
خامشی تھی ساتھ میں تو بھی کھڑا تھا
اجنبیت لہجے میں کیوں آ جمی تھی
راستے تھے، مگر میرے نہیں تھے
ہمنشیں تھے، میرے نہیں تھے
سبھی کچھ داؤ پہ جو آ لگا تھا
اگر میں بولتا
بولتا بھی تو کیسے
میں تو جود سے لڑ کر گرا تھا
میں اپنے آپ سے تھک کر گرا تھا

ملک انس اعوان

پتہ بتا رہا ہے

0 comments

مجھے یقیں ہے کہ اب کی بار بارش میں
دور کہیں کلیاں بھی کھلتی جاتی ہیں
رنگ زمیں کا پتہ بتا رہا ہے
کہاں کہاں سے سبزہ کشید ہونا ہے
شاید تم  مجھے سن رہے ہو
یہ بھی اک پہلوئے زندگی ہے دوست

ملک انس اعوان

گرداب

0 comments
بانہیں دھر کہ آہنی جنگلے کے سینے پہ 
میں پانی کے دائروں سے بات کرتا ہوں
ادھر اُدھر پھوٹتے ہوئے  گرداب 
لمحہ لمحہ حجاب کرتے ہوئے 
لہر در لہر ابھرتے ہیں 
ڈوب جاتے ہیں 
جیسے کوئی نیا شاعر 
بانہوں میں غزل بھرتے ہوئے




ملک انس اعوان 
20 اگست 2016 
خانپور نہر

اکتاہٹ

0 comments

معلوم ہے مجھکو دروازہ میرا اور نہیں بس دستک ہوگی
اس کا لہجہ اسکی جلدی اور بہت اکتاہٹ ہوگی
ہوگی ساری دنیا داری اسکے لیے یہ ساز تو ہوگی
جو دنیا کا اہل نہیں ہے اسکو تو گھبراہٹ ہوگی

ملک انس اعوان

مانتا ہوں..

0 comments
ہاں مانتا ہوں کہ یہ پہاڑ یہ جھرنے یہ چشمے یہ بل کھاتی ندیاں، یہ سرگوشیاں کرتی ہوئی نرم سرد ہوا،  برف پوش کہسار بے انتہا خوبصورت ہیں. مگر یہ صرف خوبصورت ہی نہیں بلکہ عبرت کا نشان بھی ہیں،    صدیوں سے معمولی تبدیلیوں کے ساتھ یہ متواتر موسموں اور آفات کو جھیلتے ہوئے اب تک کسی نہ کسی حد تک اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں، لیکن کچھ ایسا بھی ہے جس کے بدلنے کی رفتار ان سب سے زیادہ ہے، وہ ہیں ہم انسان،  ہم جیسے کئی  سینکڑوں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں ان پہاڑوں پہ آئے سستائے، لطف اندوز ہوئے اور بالآخر مجبوراً یا عادتاً یہاں سے چلتے بنے یا لیجا ئے گئے. پھر اور کئی جو ہم سے کئی گنا بہتر نظر اور زہن رکھنے والے یہاں سے گزرے اور شہر ہنگامہ میں نایاب ہو گئے. اس قدر نایاب کہ ان جیسا ڈھونڈ کر لانا بھی ناممکن ہو گیا. انکے نایاب ترین خیالات صفحے یا کلام کی صورت میں ڈھلنے سے پہلے ہی زیر زمین غرق ہو گئے. مگر یہ سر سبز پہاڑ یہ وادیاں پھر بھی صفحہ زمین پہ موجود رہے. ان پہ آنے والے فنا کے راہیوں نے بقا کی نظر سے انکو دیکھ کر بقا کی چاہت کو دل میں بسایا ہے.مگر یہ بقا اور فنا کے سارے قصے میں  سمجھنے کی اہم بات یہی ہے کہ اگر ان کی ہی مانند مردہ خوبصورت اور برقرار نظر آنا مقصود ہے تو اس کے لیے زیادہ ضروری چیز بے حسی ہے بالکل انہی پہاڑوں کی مانند جن پر سے کئی لوگ گزرتے اور مرتے ہیں مگر یہ ہاتھ آگے بڑھا کر نہ تو روکتے ہیں اور نہ ہی مرنے کی کوشش کرنے والے کو اپنے دامن میں سنبھالتے ہیں. بلکہ بے حسی کی تصویر بن کر حیات انسانی کا تماشا دیکھتے ہیں. پتہ نہیں انسان انسے کیوں متا ثر ہوتے ہیں حلانکہ ایک انسان کے اندر کی خوبصورتی کی ایک چھوٹی سی رمق بھی ہر لحاظ سے اعلی اور بالا ہے. اور اگر کوئی انسان اس حد تک گرنا چاہے تو چاہتے ہوئے بھی گر نہیں سکتا، کیونکہ یہ ندیا اور دریا تو کمی یا زیادتی کے ساتھ بہتے رہیں گے مگر اس وقت میری طرح یا مجھ سے بہتر یا مجھسے بدتر لوگ یہاں آ آ کر اپنا کردار ادا کر کے قرطاس سے غائب ہوتے جائیں گے، ان کی جگہ نئے چہرے سبزہ زاروں کی زینت بن جائیں گے اور کسی کو خبر بھی نہ ہو گی. یہی افراد اور لوگ ہی تو قابل قدر اور قابل توجہ چیز ہے. ورنہ ان پہاڑوں کی قدر ہی کیا ہے..... قریباً نہ ہونے کے برابر..! 
ملک انس اعوان
کنہٹی گارڈن ، وادی سون ،خوشاب،پنجاب ،پاکستان