ہندسوں کا طواف

0 comments

سیاہ اندھیرے کا راج تھا ،ننھیالی ڈیرے پہ  آم کے قدیم اور بلند سایہ دار درخت کے عین سامنے چند چارپائیاں بچھی ہوئی تھیں . جن پہ ایک وین ڈرائیور اور اس کا ساتھی کھانا کھا رہے تھے جبکہ مجھ سمیت میرے چند دیگر رشتہ دار بھی وہیں چار پائیوں پہ بیٹھے ہوئے تھے. کھانا کھانے کے بعد انہوں نے برتن اوپر تلے ترتیب سے رکھتے ہوئے اجازت چاہی تو ماموں جان نے انسے مہمانوں کو دوسرے شہر سے گھر پہنچانے کا معاوضہ پوچھا تو ان میں سے ایک جو قدرے بڑی جسامت کا تھا کہنے لگا کہ "جنے دل کرے دے چھڈو ، متھہ تے بندیاں نال لگدا ایے، پیسیاں دی کیڑھی گل ایے؟"
اس کے بعد کیا مکالمہ ہوا مجھے یاد نہیں لیکن ایک جملہ کہ" واسطہ تو انسانوں سے پڑتا ہے " نے حیرت میں مبتلا کر دیا. ایک ان پڑھ اور گاؤں کے معمولی سے ڈرائیور کی بات نے دل میں گھر کر لیا. گھر کیوں نہ کرتی جس خوبصورت انداز سے اس نے انسان کو پیسے سے الگ کیا وہ لاجواب تھا. بھلے ہی اس نے یہ بات مروت میں ہی کہی ہو مگر وزن میں بھاری تھی. میرا  انتہائی قلیل مشاہدہ بتاتا ہے کہ دفتروں میں موجود سپاٹ چہروں کے حامل وہ"  ہندسے" جو ہندسوں میں اضافہ کمی کرتے کرتے صبح کو شام اور شام کو صبح کرتے رہتے ہیں، انسان کو ایک ID نمبر سے پہچانتے ہیں، انہی ہندسوں میں معاملات طے کرتے ہیں، انہی ہندسوں سے انسان کی قیمت طے کرتے ہیں واقعی انسان نہیں ہیں کیونکہ انکا" متھہ بندیاں نال نہیں لگدا، پیسیاں نال لگدا ایے ".
غرور، تکبر، اکڑی گردن، قہر آلود نگاہیں اور حقارت بھرا رویہ رکھنے والے احساسات کی چاشنی سے عاری دفتری ملازم یعنی " ہندسے "جنہیں ہمیں باامر مجبوری" انسان "قرار دینا پڑتا ہے، ایک ایسی سوچ کا شکار ہوتے ہیں جو اپنے اندر موجود احساس کمتری کا ازالہ دوسرے کے احساس کو کچل کر کرتے ہیں. انا کا ایک طوفان ان کے رگ و پے میں بہتا ہوا دل کے کونے کونے میں سے احساس کو کھرچ ڈالتا ہے. حیرت ہوتی ہے کہ وہ انسان کو ہندسوں  میں کیسے تول لیتے ہیں، مجھے بھی اس مقام حیرت سے گزرنا ہے کیونکہ شاید سلسلہ تعلیم کے بعد مجھے بھی گزرے موسم کے کپڑوں کی طرح احساسات و جذبات کی کنڈلی کو پرانی آہنی پیٹی میں رکھ کر ایک ہندسہ بن کر ساری زندگی ہندسوں کا طواف کرنا ہے.....!
تحریر
ملک انس اعوان

الو شریف

0 comments

آپ کی طبعیت آپکی پسند پہ بہت اثر ڈالتی ہے اس لیے اکثر و بیشتر آپکو وہی چیزیں زیادہ متاثر کرتی ہیں جو آپ کی طبعیت سے بہت مطابقت رکھتی ہوں، یا بہت مخالفت ، عموماً انسان کے لیے یہ دو انتہائیں ہی خاص ہوتی ہیں اس کے درمیان سب کچھ معمولی تصور کیا جاتا ہے. رہی بات "الو" کی تو اس کی پسندیدگی کی کئی وجوہات ہیں.
اس کی شخصیت جو کہ بڑی گردن، سر اور آنکھوں کی وجہ سے نہایت پر وقار بن جاتی ہے،ایک بڑا الو اگر نظر بھر کر دیکھ لے تو پورے بدن میں سنسنی دوڑ جاتی ہے. اسی باعث لوگ اس سے ڈرتے بھی ہیں اور اس سے قصے بھی منسوب کرتے ہے . اگر اس کی ظاہری شکل میں صرف آنکھوں پہ ہی لکھا جائے تو کتاب بن جائے.
اور اس کے "پر" پوچھیے ہی مت بالکل ترتیب سے جڑے ہوئے، سلیقے سے بندھے ہوئے ایسے کہ پرواز کی آواز تک پیدا نہیں ہونے دیتے. اس قدر سلیقے سے پرواز کہ زمین کی سطح کے چند انچ اوپر اڑے تو زمین پر پڑے خشک پتوں کو بھی خبر نہ ہونے دے.
عقاب یا باز کی طرح بھی ایک شکاری جانور ہی ہے. اس کی فطرت بھی وہی ہے جو عقاب کی ہی ہوتی ہے البتہ حکمت عملی مختلف ہوتی ہے.
زیادہ بھاگ دوڑ نہیں کرتا اور شکار کے لیے سورج کی روشنی کا محتاج بھی نہیں ہوتا، تسلی کے ساتھ رات ہونے کا انتظار کرتا ہے، گھات لگا کر بیٹھتا ہے، پرسکون پرواز کرتا ہے، اور خبر ہونے سے پہلے پہلے شکار کی گردن ادھیڑ  چکا ہوتا ہے.
عموماً دنیا کے ہر کونے میں مختلف شکلوں اور رنگوں میں پایا جاتا ہے. برفیلی چوٹیوں سے صحراؤں تک اس کا دائرہ محیط ہے.
_________________
آپ نے سن رکھا ہو گا کہ "محنت اس قدر خاموشی سے کرو کہ آپکی کامیابی شور مچا دے" تو اس کی عملی تفسیر الو ہی ہے کیونکہ جب یہ شکار پہ نکلتا ہے تو جو واحد آواز رات کے سناٹے کو چیرتی ہے وہ اس کے پنجوں میں جکڑے ہوئے دم توڑتے ہوئے، اس کا نشانہ بننے والے کی ہوتی ہے.....!
رہی بات اس کی طمانیت کی تو وہ اپنی مثال آپ ہے.
دن کا بے ضرر سا پرندہ رات کو جلاد بن جاتا ہے. کیونکہ اس کے دن کا امن اس کی رات کی تیاری ہوتی ہے.💗💗
ملک انس اعوان

لوگ آسان سمجھتے ہیں دراز قد ہونا

0 comments

الله نے 6 فٹ سے کچھ زیادہ قد عطا کیا ہے اور الحمداللہ صحت بھی ٹھیک ٹھاک دی ہے، اس لیے جب بھی پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے کا موقع ملتا ہے ہماری نظر ایسی جگہ پہ ہوتی ہے جہاں ہم اپنی طویل ٹانگوں کو سمیٹ کر بیٹھ سکیں وگرنہ صورت حال یہ ہوتی ہے کہ اگر گاڑی کا رخ مشرق کی جانب ہو تو ہمیں اپنی ٹانگیں شمالاً جنوباً رکھنی پڑتی ہیں، اس کے علاوہ اگر کسی اور صحت مند فرد نے ساتھ بیٹھنا ہو تو سینے کو بھی شمالاً جنوباً رکھ کر حسب عادت تانک جھانک کے لیے گردن کو بطرف کھڑکی شریف رکھنے کے لیے انتہائی شمال یا انتہائی جنوب موڑنا پڑتا ہے. چناچہ عسکری اصطلاح میں ہم ایک دلچسپ "اسٹریٹیجک پوزیشن" اختیار کر چکے ہوتے ہیں.
یوں مناظر کی لطافت گردن کی جڑوں میں بیٹھ جاتی ہے اور محض گھنٹے بھر کے سفر میں طبعیت ٹھکانے لگ جاتی ہے. اس کے علاوہ اگر پیچھے یا آگے  خواتین بھی بیٹھی ہوں تو خدا کی پناہ، دوران سفر کھانے بنانے کے طریقوں سے لے کر کس کس کا رشتہ کہاں کہاں نہیں ہو پایا، اس کی وجوہات کیا تھیں، اور اس کے معاشرے پہ کیا اثرات وقوع پذیر ہوں گے، جیسے گھمبیر مسائل تک بلا معاوضہ سننے کو ملتے ہیں. جس سے سفر میں دیکھے جانے والے مناظر کے نوٹس منتشر ہو جاتے ہیں اور انکو موبائل فون میں محفوظ نہیں کر پاتا اور نتیجتاً ایسی تحریریں جنم لیتی ہیں جن کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا.
رہے نام اللہ کا......
ملک انس اعوان

ہم درمیان والے

0 comments

عوام میں یہ خیال عام پایا جاتا ہے کہ اہلیان داڑھی شریف کے دل اور زہن رومانویت اور ادب سے خالی اور نا واقف ہوتے ہیں، جو کہ بالکل غلط تاثر ہے. آپ انکے پاس بیٹھ کر تو دیکھیے..... خاکسار نے ایک معزز عالم دین کی زبانی منبر پہ غالب کی تعریف سنی ہے، اس میں بات ساری ظرف اور ذوق کی ہے، اسی طرح ہم بذات خود ایسے آئمہ مساجد کو جانتے ہیں جن کے پاس ذاتی بیٹھک کا زیادہ تر حصہ شعر و شاعری پہ مشتمل ہوتا ہے.
سب سے دلچسپ چیز یہ ہے کہ ان کے ہاں احساسات کو حدود کے اندر اس طرح قید کیا جاتا ہے کہ گٹھن کی بجائے لطف پیدا ہونے لگتا ہے، سننے اور سنانے والے یہ بات جانتے ہی ہیں کہ "کہہ دینے" میں کوئی کمال نہیں ہوتا ہے بلکہ کمال "نہ کہہ" کر بھی کہہ دینے میں ہوتا ہے.
پچھلے دنوں ہی ایک مولانا صاحب نے اپنی لکھی ہوئی غزل سنائی تو سن لینے کے بعد  تبصرے کے لیے میری جانب دیکھنے لگے تو میں نے لمبی سانس بھر کر محض اتنا ہی کہا کہ
آپ سیدھا سیدھا کیوں نہیں کہتے ہیں جو جون ایلیاء نے کہا تھاکہ
"جو نہیں ہے وہ خوبصورت ہے "
اتنا سننا تھا کہ بے اختیار ہنسنے لگے اور کافی دیر ہنستے رہے اور کہنے لگے اٹھ شیطان بھاگ یہاں سے ....!
پاکستان کے مشہور ارادے سے درس نظامی کے آخری سال کے ایک طالب علم سے ملاقات ہوئی باتوں باتوں میں ذکر چل پڑا تو انہوں نے اپنا کلام سنانے کی خواہش کا اظہار کیا، پاس ہی چند اور طلبا بھی بیٹھ گئے، مولانا نے نظم سنانا شروع کی.. جس میں وہ حور کو مرحلہ وار عرش سے فرش پر لا رہے ہیں، شاعری واقعی خوب تھی سماں بندھ گیا، اب صورتحال کچھ یوں تھی کہ وہ مذکورہ "حور" محترمہ بس اب کے زمینِ انسان پہ قدم رکھنے ہی والی تھیں کہ مولانا نے اگلے ہی مصرعے میں موصوفہ کو دوبارہ جنت پہنچا دیا.
پیچھے بیٹھے ہوئے ایک طالب علم جو کافی انہماک سے سن رہے تھے، جھنجھلا کر ، منہ بنا کر بولے
"مولانا اگر واپس ہی بھیجنا تھا تو اتنا تکلف کیوں کیا؟"
انکی بات سن کر انکے ساتھ بیٹھے ہوئے دوسرے طالب علم نے انکا کندھا تھپتپایا اور سمجھانے کے انداز میں کہنے لگے کہ
"حافظ تجھے ایک کی پڑی ہے میں نے تو 70 حوروں کی فیملی پلاننگ کر رکھی ہے "
یہ سننا تھا کہ ضبط کے بندھ ٹوٹ گئے اور سب اتنا ہنسے کہ باہر سے انکے استاد محترم کو خیریت معلوم کرنے آنا پڑا.
باقی ہم جیسے تو اہل جبہ و دستار کے ہاں  کچھ معاملات میں قدرے" لبرل "تصور کیے جاتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے  عام افراد ہمیں مذہبی تصور کرتے ہیں :) ، اس طرح دونوں جانب اپنی گنجائش خودبخود نکل آتی ہے. اور ہم دونوں جانب سے مستفید ہو پاتے ہیں.
ملک انس اعوان

جمال

0 comments

جمال حسنِ عمل ہے 
جمال حسنِ بیاں ہے 
جمال ابر کی صورت
جمال آبِ رواں ہے
جمال موج تبسم 
جمال اشک رواں ہے 
جمال شوقِ طلب ہے 
جمال ذوقِ زیاں ہے 
جمال گوشہِ موجود 
جمال محض گماں ہے 
جمال نعرہ مستی 
جمال طرز فغاں ہے 
جمال حکمتِ منبر 
جمال حکمِ ازاں ہے 
جمال سجدہ ساجد
جمال وصفِ نہاں ہے 
جمال چشمِ مصور 
جمال اور کہاں ہے؟



ملک انس اعوان 
نوٹ :اس کا تعلق وحدت الوجود یا شہود سے نہیں ہے بلکہ محض جمالیاتی حسن کی نشاندہی ہے.

صحرا کا شیر

0 comments
مختصر افسانہ "2"
وہ ادھیڑ عمر خاتون پریشانی کے عالم میں خیمے کے اندر ٹہل رہی تھی. چند مزید خیموں  اور خواتین کے علاوہ اس تپتے صحرا میں دور دور تک سوائے ریت کے ٹیلوں کے کچھ نظر نہ آتا تھا. جیسے جیسے مغرب کا وقت قریب آ رہا تھا اس کی بے چینی بھی بڑھتی جا رہی تھی.انتہائی ضرورت کا سامان ایک پوٹلی کی صورت میں باندھ کر خیمے کی ایک جانب پڑا ہوا تھا. جیسے ہی کہیں دور فضا سے کسی اطالوی ہوائی جہاز کی آواز ہوا کو چیرتی ہوئی اس کے کانوں تک پہنچتی تو وہ اس پوٹلی کو اٹھاتی اور خیمے کے دروازے پر آ کر کسی محفوظ مقام کی جانب بھاگ جانے کے لیے کھڑی ہو جاتی، مگر اس دوران بھی اس کی آنکھیں ان سنہرے ٹیلوں میں کسی کو تلاش کر رہی ہوتیں .
انتظار کے لمحے کٹھن ہوتے جا رہے تھے اور خاتون کی زباں پہ دعاؤں کا سلسلہ جاری ہو چکا تھا. سورج اپنی نیند پوری کر نے کے لیے پر تول رہا تھا کہ اچانک ایک دوسری عورت جس کا خیمہ قدرے بلند مقام پر تھا قریباً چیختے ہوئے عربی زبان میں اس خاتون کو مطلع کرتی ہے کہ وہ دیکھو "صحرا کا شیر" کا شیر آ رہا ہے!
ادھیڑ عمر کی خاتون یہ سنتی ہیں تو خوشی سے پھولے نہیں سماتی ہیں، جلدی سے پوٹلی کھولتی ہیں اس میں سے کھانے کا سامنا نکالتی ہیں اور جو جو کچھ میسر تھا اس کے ساتھ دسترخوان سجا دیتی ہیں.
وہ پردے کی اوٹ سے دیکھتی ہے کہ.....
ایک 60 سے ستر سال کے درمیان کا  ایک بوڑھا ، ہاتھ میں اطالوی فوج سے چھینی ہوئی بندوق تھامے عجیب جاہ و جلال سے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ خیموں کی جانب  چلا آ رہا تھا . اس بوڑھے کو جس کو دنیا صحرا کا شیر کا شیر کہتی ہے، جیسے ہی خیموں کے نزدیک پہنچتا ہے اس کے دیگر ساتھی منتشر ہو جاتے ہیں.
وہ ادھیڑ عمر خاتون اب بھی پردے کی اوٹ سے اس بوڑھے کو دیکھ رہی تھی. جیسے ہی بوڑھا خیمے میں داخل ہونے لگتا ہے،
اور وہ خاتون بلند آواز میں کہتی ہیں کہ "اللہ کا شکر کہ جس نے تمہیں خدا کی راہ میں جان نچھاور کرنے کے لیے مزید زندگی عطا فرمائی"
اتنا کہہ کر خاتون آگے بڑھ کر اور بازو بلند کر کے دروازے کے پردے کو اوپر اٹھا دیتی ہیں، کہ کہیں اس  شیر کو خیمے میں داخل ہونے کے لیے اپنا سر نہ جھکانا پڑے...... الله اکبر....!
یہ بوڑھا لیبیا کے عظیم مجاہد رہنما اور معلم قرآن "عمر مختار شہید" تھے اور وہ خاتون ان کی بیوی تھیں.
بلاشبہ اگر وہ بوڑھا صحرا کا شیر تھا تو ان کی بیوی بھی صحرا کی شیرنی تھی.
______
ملک انس اعوان

مختصر افسانہ

0 comments

قریباً یہی سردیوں کے دن تھے. کڑاکے کی سردی پڑ رہی تھی. چاروں جانب دبیز دھند کا راج تھا جس کے باعث سڑکیں اور گلیاں سنسان تھیں. ایسے میں شہر کے ایک مشہور و معروف مدرسے کے ایک جانب برآمدے کے اندر ایک برقی بلب جل رہا تھا. اور اسی کے پہلو میں چند افراد کی دھیمی دھیمی آوازیں آ رہی تھیں، ان افراد میں ایک مفتی صاحب اور انکے 7 شاگرد اور دوسری جانب ایک یونیورسٹی کا طالب علم تکیوں سے ٹیک لگائے کسی بات پہ احسن انداز میں گفتگو کر رہے تھے.
اس یونیورسٹی کے نوجوان کا موقف تھا کہ اقامت دین کا کام ایک اجتماعی فریضہ ہے.
جبکہ دوسری جانب مفتی صاحب کا کہنا تھا کہ، آپ اپنا آپ درست کر لیں دنیا خودبخود درست ہو جائے گی، سب سے پہلے نفس کی اصلاح کریں جب یہ ہو گئی تو پھر آگے کا دیکھیں گے.
مفتی صاحب کے تمام شاگردنہایت دلچسپی اس سارے معاملے کو دیکھ اور سن رہے تھے.
دونوں جانب سے دلائل کا سلسلہ جاری تھا لیکن کوئی بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھا. بالآخر جب بات بنائے نہ بن پا رہی تھی تو وہ نوجوان تیزی سے اٹھا اور  کمرے کا دروازہ کھول کر واپس اپنی جگہ پہ آ کر بیٹھ گیا.
مفتی صاحب نے فوراً اپنے گرد لپیٹے ہوئے کمبل کو مزید کَس کر اپنے گرد لپیٹ لیا اور سختی سے اپنے شاگرد سے بولے کہ جائیں اور دروازہ بند کریں ٹھنڈ اندر آ رہی ہے.
لیکن نوجوان نے اپنے پہلو سے اٹھتے ہوئے مدرسے کے طالب علم کو روک لیا.
طالب علم کشمکش کے عالم میں وہیں زمین پہ اکڑوں ہو کر بیٹھ گیا.
نوجوان نے مفتی صاحب سے پوچھا "جی مولانا آپ نے دروازہ بند کرنے کا کیوں کہا؟، آپ اپنا کمبل درست کریں اور الله سے دعا کریں کہ یا الله خودبخود کمرے کا درجہ حرارت معتدل ہوجائے"
مفتی صاحب  بغیر وقت ضائع کیے ہاتھوں کو آپس میں رگڑتے ہوئے بولے کہ
جب تک دروازہ بند نہیں ہو گا میری کوشش کے باوجود ٹھنڈ لگنے کا خدشہ موجود رہے گا اور میرے علاوہ یہ میرے شاگرد وں کا کیا بنے گا؟
تو وہ نوجوان دھیما سا مسکرایا اور بولا "مفتی صاحب یہی بات تو میں آپکو کتنی دیر سے سمجھا رہا ہوں کہ اگر دین کو بچانا ہے تو ریاست میں اقامت دین کی جدوجہد لازمی ہے تاکہ کفر کی آمد کا دروازہ ہی بند کیا جا سکے.
یہ دروازہ بند نہ کیا گیا تو صبح تک آپ تو شاید اپنے کمبل کے باعث بچ جائیں مگر آپکے شاگردوں کی قلفی جم جائے گی.
اتنا کہہ کر وہ نوجوان اٹھا اور جاکر دروازہ بند کر دیا اور واپس اپنی جگہ پر بیٹھ کر اپنی بات جہاں سے ختم کی تھی وہیں سے شروع کر دی کہ
اب دیکھیے ناں زرا سا بستر چھوڑ کر اور اپنے نفس سے زیادہ اجتماعیت کی فکر اختیار کرتے ہوئے اٹھ کر دروازہ بند کر دینے سے آپ کے علاوہ اس پورے کمرے میں موجود ہر کسی کا فائدہ ہو رہا ہے اور ہر کسی کو اسکی ذاتی حد تک بھی تقویت مل رہی ہے.
مفتی صاحب نے داڑھی کھجاتے ہوئے اور اپنے کمبل کی گرفت ڈھیلی کرتے ہوئے پر فکر انداز میں اس نوجوان کی جانب دیکھا اور بے اختیار مسکرا اٹھے اور کہنے لگے.
لڑکے تم ٹھیک کہتے ہو.....!
___
ملک انس اعوان