سر شام شکست

0 comments

ابھی کل ہی کی تو ہے بات
میں سر شام چپ سا ہو گیا تھا
سامنے پیڑ قطار اندر قطار
ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے
ایک دوجے پہ بوجھ ڈالے ہوئے
جیسے گزرتے وقت کے نوحے پڑھ رہے ہوں
سیاہی چھانے لگی تھی
افق پہ ڈوبتے سورج کی جاں
کہ جیسے نیزے کی نوک پہ آ ٹکی تھی 
پنچھیوں کے شور سے دل ڈوب رہا تھا
عجب اک آزمائش تھی
سایہ دل میں دھوپ بھری تھی
خامشی تھی ساتھ میں تو بھی کھڑا تھا
اجنبیت لہجے میں کیوں آ جمی تھی
راستے تھے، مگر میرے نہیں تھے
ہمنشیں تھے، میرے نہیں تھے
سبھی کچھ داؤ پہ جو آ لگا تھا
اگر میں بولتا
بولتا بھی تو کیسے
میں تو جود سے لڑ کر گرا تھا
میں اپنے آپ سے تھک کر گرا تھا

ملک انس اعوان

پتہ بتا رہا ہے

0 comments

مجھے یقیں ہے کہ اب کی بار بارش میں
دور کہیں کلیاں بھی کھلتی جاتی ہیں
رنگ زمیں کا پتہ بتا رہا ہے
کہاں کہاں سے سبزہ کشید ہونا ہے
شاید تم  مجھے سن رہے ہو
یہ بھی اک پہلوئے زندگی ہے دوست

ملک انس اعوان

گرداب

0 comments
بانہیں دھر کہ آہنی جنگلے کے سینے پہ 
میں پانی کے دائروں سے بات کرتا ہوں
ادھر اُدھر پھوٹتے ہوئے  گرداب 
لمحہ لمحہ حجاب کرتے ہوئے 
لہر در لہر ابھرتے ہیں 
ڈوب جاتے ہیں 
جیسے کوئی نیا شاعر 
بانہوں میں غزل بھرتے ہوئے




ملک انس اعوان 
20 اگست 2016 
خانپور نہر

اکتاہٹ

0 comments

معلوم ہے مجھکو دروازہ میرا اور نہیں بس دستک ہوگی
اس کا لہجہ اسکی جلدی اور بہت اکتاہٹ ہوگی
ہوگی ساری دنیا داری اسکے لیے یہ ساز تو ہوگی
جو دنیا کا اہل نہیں ہے اسکو تو گھبراہٹ ہوگی

ملک انس اعوان

مانتا ہوں..

0 comments

ہاں مانتا ہوں کہ یہ پہاڑ یہ جھرنے یہ چشمے یہ بل کھاتی ندیاں، یہ سرگوشیاں کرتی ہوئی نرم سرد ہوا،  برف پوش کہسار بے انتہا خوبصورت ہیں. مگر یہ صرف خوبصورت ہی نہیں بلکہ عبرت کا نشان بھی ہیں،    صدیوں سے معمولی تبدیلیوں کے ساتھ یہ متواتر موسموں اور آفات کو جھیلتے ہوئے اب تک کسی نہ کسی حد تک اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں، لیکن کچھ ایسا بھی ہے جس کے بدلنے کی رفتار ان سب سے زیادہ ہے، وہ ہیں ہم انسان،  ہم جیسے کئی  سینکڑوں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں ان پہاڑوں پہ آئے سستائے، لطف اندوز ہوئے اور بالآخر مجبوراً یا عادتاً یہاں سے چلتے بنے یا لیجا ئے گئے. پھر اور کئی جو ہم سے کئی گنا بہتر نظر اور زہن رکھنے والے یہاں سے گزرے اور شہر ہنگامہ میں نایاب ہو گئے. اس قدر نایاب کہ ان جیسا ڈھونڈ کر لانا بھی ناممکن ہو گیا. انکے نایاب ترین خیالات صفحے یا کلام کی صورت میں ڈھلنے سے پہلے ہی زیر زمین غرق ہو گئے. مگر یہ سر سبز پہاڑ یہ وادیاں پھر بھی صفحہ زمین پہ موجود رہے. ان پہ آنے والے فنا کے راہیوں نے بقا کی نظر سے انکو دیکھ کر بقا کی چاہت کو دل میں بسایا ہے.مگر یہ بقا اور فنا کے سارے قصے میں  سمجھنے کی اہم بات یہی ہے کہ اگر ان کی ہی مانند مردہ خوبصورت اور برقرار نظر آنا مقصود ہے تو اس کے لیے زیادہ ضروری چیز بے حسی ہے بالکل انہی پہاڑوں کی مانند جن پر سے کئی لوگ گزرتے اور مرتے ہیں مگر یہ ہاتھ آگے بڑھا کر نہ تو روکتے ہیں اور نہ ہی مرنے کی کوشش کرنے والے کو اپنے دامن میں سنبھالتے ہیں. بلکہ بے حسی کی تصویر بن کر حیات انسانی کا تماشا دیکھتے ہیں. پتہ نہیں انسان انسے کیوں متا ثر ہوتے ہیں حلانکہ ایک انسان کے اندر کی خوبصورتی کی ایک چھوٹی سی رمق بھی ہر لحاظ سے اعلی اور بالا ہے. اور اگر کوئی انسان اس حد تک گرنا چاہے تو چاہتے ہوئے بھی گر نہیں سکتا، کیونکہ یہ ندیا اور دریا تو کمی یا زیادتی کے ساتھ بہتے رہیں گے مگر اس وقت میری طرح یا مجھ سے بہتر یا مجھسے بدتر لوگ یہاں آ آ کر اپنا کردار ادا کر کے قرطاس سے غائب ہوتے جائیں گے، ان کی جگہ نئے چہرے سبزہ زاروں کی زینت بن جائیں گے اور کسی کو خبر بھی نہ ہو گی. یہی افراد اور لوگ ہی تو قابل قدر اور قابل توجہ چیز ہے. ورنہ ان پہاڑوں کی قدر ہی کیا ہے..... قریباً نہ ہونے کے برابر..!
ملک انس اعوان

کتاب ازیت

0 comments

یادوں کی لائبریری میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب "کتاب اذیت" ہے، جس کی ایک سطر پڑھنے سے نظر دوسری سطر پہ پہنچ جاتی ہے، سطر در سطر، ورق در ورق، باب در باب، اور جلد سے جلد کھلتی چلی جاتی ہے اور احساس بھی نہیں ہوتا ہے کہ امید کا سورج کب اُگا اور کب کرب کی پستیوں میں غروب ہو چکا. ایسا  لطف انگیز کرب جو اندھے نشے کی طرح تن بدن میں زہر کی طرح پھیل جائے. جب آنکھوں اور حلق میں موجود لاوے کی طرح  ابلتا طوفان رستہ نہ پاکر دل کے  اندر بہنا شروع کر دے تو چہرے اس سکون سے روشناس ہوتے ہیں جو کتابوں، تجزیوں، تحریروں کا نچوڑ نہیں ہوتا بلکے آپ کے اپنے زاتی نفس کُش تجربات کا حاصل ہوتا ہے جو اپنے آپ میں کامل اور بے قیمت شے ہے.

ملک انس اعوان

دین کی راکٹ سائینس

1 comments
بالخصوص" دین "اسلام کوئی Super Natural چیز نہیں ہے کہ جس کو سمجھنے اور عمل کرنے کے لئے آپکوکوئی مخصوص قسم کا چُغہ یا دستار پہننی پڑے گی(اس اعتبار سے کہ یہ فرض نہیں ہیں )،دور دور کا سفر کرنا پڑے،کہیں مجاور بن کر بیٹھنا پڑے گا یا کئی خفیہ راز ہیں جن کو حاصل کرنا پڑے گا، دین توچلتے پھرتے کاروبار دنیا کے بیچ رہتے ہوئے احکام الہی اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اسوۃ کی پاسداری کا نام ہے۔دین میں کوئی بھی چیز خفیہ یا پوشیدہ نہیں ہے ۔ اس میں کوئی جادو منتر یا Spell نہیں ہے۔خطبہ حجۃ الوداع میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
وقد ترکت فیکم ما لن تضلوا بعده إن اعتصتم به: کتاب الله، وأنتم تُسألون عني، فما أنتم قائلون؟ قالوا: نشهد أنك قد بلغت وأدّیت ونصحت،فقال بإصبعه السبابة، یرفعها إلى السماء وینکتها إلى الناس: اللهم! اشهد، اللهم! اشهد ثلاث مرات
(صحیح مسلم :۲۹۴۱، صحیح سنن ابی داود للالبانی :۱۹۰۵، ابن ماجہ :۱۸۵۰، الفتح الربانی :۲۱؍۵۸۸)
اور میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جارہا ہوں کہ اگر تم نے اسے مضبوطی سے پکڑے رکھا تو اس کے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے اور وہ ہے اللہ کی کتاب اور تم سے میرے متعلق پوچھا جانے والا ہے تو تم لوگ کیا کہو گے؟ صحابہ نے کہا: ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپؐ نے تبلیغ کردی، پیغام پہنچا دیا اور خیرخواہی کا حق ادا کردیا۔
یہ سن کر آپﷺ نے انگشت شہادت کو آسمان کی طرف اٹھایا اور لوگوں کی طرف جھکاتے ہوئے تین بار فرمایا: اے اللہ گواہ رہ۔‘‘ (الرحیق المختوم: ص ۷۳۳)
قابل غور بات یہی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کا کوئی پہلو بھی عمل سے خالی نہیں چھوڑا ہے ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس گواہی کے بعد اور اس گواہی میں اللہ تعالی ذوالجلال کو شامل کر لینے کے بعد میرا نہیں خیال کہ کوئی "اسم اعظم" ایسا رہ گیا ہو جس کو عام مسلمانوں تک نہ پہنچا دیا گیا ہو ، شریعت کے مسائل اور تعلیمات میں تو کہیں شرم رکھی ہی نہیں گئی ، ناخن کاٹنے سے سے کر کفن تک کے تمام مراحل میں مفصل اور مدلل احکامات ہمارے پاس اسلاف کی محنت اور کوشش سے موجود ہیں اور وہ احکامات ہر صورت حال میں تا قیامت "قابل عمل " ہیں ۔ اس دوران جدید مجتہدین اور صوفیاء اکرام کی جانب سے جو بھی Rocket Science ایجاد ہو گی اس کا موازنہ اس صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم کے Model سے کیا جائے گا یاد رہے اگر کوئی عمل حرام اور حلال کے درمیان قائم Gray Area میں موجود ہوا تو اس میں اس عمل کو فوقیت دی جائے گی جو بالترتیب حلال کی جانب زیادہ مائل ہوگا۔


تحریر
ملک انس اعوان