ایندھن

0 comments

رات کے پچھلے پہر ایک بڑے  گھر کے وسیع صحن میں چند شناسا چہرے کرسیوں کے ساتھ ٹیک لگائے درمیان میں لگی ہوئی آگ سے راحت حاصل کر رہے تھے، چاروں جانب سے  پنجابی کے جملے اچھالے اور کسے جا رہے تھے،  شاید دن بھر کی تھکن کے باعث جملوں میں اب وہ پہلے کی سی آنچ باقی نہیں رہی تھی، اور میرے پاس فقط سر ہلا دینے اور مخصوص دورانیے کے بعد آہستگی سے ہاں میں ہاں ملا دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ میری دلچسپی کا مرکز وہ آگ اور اس کے شعلے تھے جو بے ہنگم انداز میں پیدا، بڑھتے اور ختم ہوتے نظر آ رہے تھے، جن کی تپش سردی کی شدت کے باعث بہت بھلی لگ رہی تھی.
ایک چھوٹا سا لکڑی کا ٹکڑا لیے میں ادھ جلی ہوئی لکڑیوں کو آگ میں دھکیل دیتا اور ان کے مکمل جلنے سے پہلے پہلے پہلو میں پڑی ہوئی مزید لکڑیوں کو  آگ کے اندر رکھ دیتا. یہ ایک مخصوص رفتار سے اس طرح ہو رہا تھا کہ مجھے اپنے اس عمل کا احساس تک نہیں ہو پا رہا تھا. ایک مشینی انداز میں خودکار طریقے سے ہاتھ اٹھتے اور آگ کی تپش کو برقرار کر دیتے، رفتہ رفتہ پاس سے آنے والی آوازیں معدوم ہوتی چلیں گئیں اور تصور کے قرطاس پہ وہی شعلے دوڑنے لگے جن میں مختلف چہروں کے خدوخال ابھرتے اور غائب ہوتے، پھر کوئی چہرہ یا کوئی لمحہ شعلے کی صورت میں سامنے آتا اور تیزی سے گزر جاتا. وہ شعلے بڑے ہوتے ہوتے ذہن سے خون کی مانند رگوں میں اترتے ہوئے محسوس ہونے لگے، گویا یہ میرا جسم نہیں بلکہ آگ کا ہی کوئی شعلہ ہو جو باہر کے سرد موسم میں اپنی خواہشات کے ایندھن کو جلا جلا کر لوگوں کے لیے راحت کا سامان سامان پیدا کر رہا ہے مگر اس کی قسمت میں اس کا حاصل صرف چٹکی بھر بے وقعت راکھ اور فضا میں بلند ہوتا ہوا کسیلا کڑوا دھواں ہے جو کسی کی بھی آنکھ تک پہنچے بھی تو اس میں چبھن اور تکلیف پیدا کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں کر سکتا ہے.

تحریر

ملک انس اعوان
گجرات، پنجاب، پاکستان

کئی روز ہوئے

0 comments

کئی روز ہوئے
سامنا نہیں ہوا
افق پہ ڈوبتے کے سورج کے ہمراہی
سیاہ سفید اور زرد بادل
پوچھتے ہوں گے
کہاں گیا ہے وہ شخص
افق پہ پھوٹنے والے
رنگ جس کو سبھی تو بھاتے تھے
ہوا کے ساز جس کو سمجھ میں آتے تھے
آزاد جس کی فقط لے تھی
قافیہ ردیف جس سے نہ بننے پاتے تھے
وہی ضعیف روح
جواں جسم لیے
ہر شام تجسس ایجاد کرتی تھی
سنا ہے دشت طلب میں
ابر نے مار ڈالا ہے
رنگِ خیال، گماں ، امید، سکوں 
نچوڑ ڈالا ہے

ملک انس اعوان

روح کیا ہوتی ہے

0 comments
سہ پہر سے  ہلکی ہلکی بارش جو دل کو بھاری بھاری محسوس ہو رہی تھی وقفے وقفے سے  تک رات گئے تک جاری رہی تھی۔ایک دوست کے ہاں سے اٹھ  کر وقت دیکھا تو 11 بج رہے تھے ، میسر لباس کو درست کیا اٹک کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے سواری کے خیال کو پس پشت ڈالتے ہوئے پیدل ہی ہاسٹل کے لیے چل پڑا ۔ سڑک پہ اکا دکا گاڑیاں نظر آتیں اور پاس سے سرعت کے ساتھ گزر جاتیں ، ان کی آمد اور گزرنے سے پہلے پہلے مجھ تک اور میرے گرد و نواح تک جو چیز پہنچتی وہ ان کی ہیڈ لائٹ کی روشنی ہو تی جو گزرتے گزرتے بھیگی ہوئی سڑک پہ بجری کے ابھار اور نقش کو واضح کرتے ہوئے گاڑی سے ساتھ ہی مجھسے آگے نکل جاتی ، بالکل وقت کی مانند جو تھمتا نہیں ہے بس گزرتا ہی چلا جاتا ہے ۔
دھیمی رفتار سے چلتے ہوئے یادوں کی البم کا سرا کھلتا چلا گیا اور کہاں کہاں سے گزرتا ہوا خیال بلآخر ایک آواز کی آمد کے ساتھ ہی حقیقت میں گم ہو گیا ، سامنے ایک رکشہ رکا ہوا تھا اور ایک معمر بابا جی ہاتھ کے اشارے سے اور زبان کی حرک  سے پوچھتے معلوم پڑتے تھے کہ " مولوی صآحب شہر جاؤ گے؟"۔ 
غنیمت سمجھتے ہوئے سوار ہو گیا ، رکشا ابھی چلا ہی تھا کہ بابا جی بولے کہ "پتر کہاں سے آرہے ہو اور کیا کرتے ہو؟"
دل گفتگوں پہ مائل نہیں تھا چناچہ پکا سا جواب بنا کر دیا کہ "پڑھتا ہوں۔۔!! "
ابھی میں یہ کہہ بھی نہ پایا تھا اگلا سوال میری سماعتوں سے ٹکرا چکا تھا کہ "کیا پڑھتے ہو؟ " میں تحمل سے جوابات دیتا گیا اور پھر انہوں سے پوچھا کہ "پتر یہ سافٹ وئیر کیا ہوتا ہے؟ "
پہلے تو میں استعارے اور مثالیں تلاش کرنے لگا مگر جب کچھ بن نہ پایا تو وہی کہہ دیا جو اکثر کہتا ہوں کہ ،جیسے انسان میں روح ہوتی ہے اسی طرح کمپیوٹر میں سافٹ وئیر ہوتا ہے" 
میں گمان میں تھا کہ اب شاید سوالات کا سلسلہ رک جائے گا مگر اگلا سوال پھر میرے دامن میں پھینکا جا چکا تھا  کہ " پتر آپ تو پڑھے لکھے معلوم ہوتے ہو ، یہ بھی بتا دو کہ روح کیا ہوتی ہے ؟"
میں ایسے کسی سوال کے لیے تیار نہیں تھا اور ذہن بھی شاید متوجہ نہیں تھا مگر یہ سننے کے بعد جیسے ساری توجہ اسی جانب چلی گئی تھی ۔ میں نے  جواب دیا کہ " چاچا یہ مشکل چیز ہے لیکن ایک آیت ہے
 ََوَیَسْاٴَلُونَکَ عَنْ الرُّوحِ قُلْ الرُّوحُ مِنْ اٴَمْرِ رَبِّی 
 ”اور پیغمبر یہ آپ  سے روح کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تو کہہ دیجیئے کہ یہ میرے پروردگار کا ایک امر ہے “۔
اور پتہ نہیں کیا کچھ بولتے بولتے میری منزل بھی آ چکی تھی ، رکشے سے نیچے اترکر جیب سے پیسے نکالتے ہوئے مین نے چاچا جی کو مخاطب کیا اور کہا کہ "چاچا جی ایک آخری بات یہ ہے ، کسی جاننے والے نے بتایا تھا کہ روح وہ ہوتی ہے جو محسوس ہوتی ہے ، لیکن چاچا یہ نظر نہیں آتی ہے ، اوجھل ہو جاتی ہے"
اتنا کہہ کر میں  مطمئن انداز  میں مڑ چکا تھا اور رکشہ بھی اپنی منزل کی جانب روانہ ہو گیا  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

سرگشت

ملک انس اعوان 
15 جنوری 2017
اٹک ، پنجاب ،پاکستان




سالِ تسلیم گزر گیا

0 comments
اب سے ٹھیک چند دن کیا بلکے گھنٹوں بعد دنیا میں رائج عیسوی کلنڈر اپنا آخری ہندسہ بدلے گا اور اس طرح دنیابھر میں سال 2017 کا آغاذ ہو جائے گا، کل ملا کر 366 دن جو 52 ہفتے اور 2 دن بنتے ہیں ماضی کے صفحات میں ضم کر دیے جائیں گے ۔سو اب  اگر بیٹھے بیٹھے اس سال کے اہم واقعات پہ نظر پڑے تو ہاتھ مسلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا ، کیونکہ ہم بہر حال مخلوق ہیں ,تقدیر کے پابند ہیں ،ہمارا تخیل ہم سے بر عکس انتہائی آزاد ہے ۔ان دو انتہاؤں کے درمیان وقت جس تیزی سے انسان کو گھسیٹتا ہے یہ احساس رکھنے والے خوب جانتے ہیں ، جاننے کا یہ تجربہ بھی وقت کا پابند ہوتا ہے ،جوں جوں وقت کی سوئیاں زندگی کے مدار پہ چکر کاٹتی آگے بڑھتی جاتی ہیں ، چہرے ، منظر اور ان مناظر کے ترشے ہوئے خدوخال مزید واضح ہو تے چلے جاتے ہیں ، ایسا بہت کچھ جو لکھا ہوا کسی وقت میں  پڑھا جاتا  ہے درست ثابت ہوتا ہے اور اور کچھ ایسا بھی متن ہونا ہے جس کے مفہوم کو تجربات کی کسوٹی غلط ثابت کر دیتی ہے۔کچھ کو ہم  تسلیم کر لیتے ہیں اور کچھ حقیقتوں کو ذہن رد کر دیتا ہے ، مگر جب عقل کی نمی ضد میں نرمی لاتی ہے تو ذہن ان کو رفتہ رفتہ  تسلیم کرنے لگتا ہے ۔
یہ سال تسلیم کا سال رہا ،صبر اور مزید نرمی اختیار کرنے  کا سبق دے گیا۔ نقصانات اتنے کہ جنکا ازالہ ممکن نہیں مگر اللہ تعالی کے اتنے انعامات کہ جتنا بھی شکر ادا کیا جائے وہ کم ہے ۔ ایک اہم چیز جو کسی حد تک سیکھنے کو ملی وہ خود احتسابی رہی ، چاہے وہ معمولی نوعیت کی ہی ہو یا بڑھتی عمر کا ہی اثر ہو مگر بہرحال ایک حقیقی صورت میں اس سے شناسائی ممکن ہو پائی ہے ۔ خود سے دور کسی اور کی نظر سے خود کو دیکھنے کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش جاری رہی ہے ، اور ہمارے لیے اس کی کوشش کرنا اس کے حاصل کرنے کے زیادہ اہم ہے ۔
اپنی کمیاں  کوتیاہیاں  غلطیاں بار بار سامنے آ  نے کے باوجود ان کے حل اور ان کی جانب رجوع کی اشد ضرورت محسوس ہو رہی ہے ۔مزاج کا ظاہری ٹھہراؤ اندرونی بے چینی سے میل نہ کھانے کے باعث  بے وجہ کی پرملال کیفیت سے دوچار رہا ہے ۔ ظاہر اور باطن میں مطابقت پیدا کرنے کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی ہے ۔
اپنی زندگی کے بدرترین لوگوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے الحمداللہ اس وقت کے بہترین  لوگوں کو اپنا منتظر پایا ہے ،ان کی موجودگی اور ان کا خلوص  میرے لیے سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ انکو دینے کے لیے میرے پاس دعاؤں کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اللہ تعالی حیات کی تلخیوں اور غلطیوں  سے سبق سیکھنے ، مستقبل کو  سنوارنے اور تعمیرکرنے ، اپنے رستے میں قبول کرنے ، مثبت توقعات پہ پورا اترنے ، جوانی کو بہترین جگہ کھپانے ،سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت کو اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین

تحریر:
 ملک انس اعوان
30 دسمبر2016 ،
اٹک ،پنجاب ،پاکستان



باد صبا یاد رہے

0 comments
یہاں سے دور
بہت دور 
وہاں کی بات ہے یہ 
جہاں پہ فاصلےدرحقیقت 
کچھ نہیں ہوتے 
زہن خاموش 
دل کی زباں ہوتی ہے 
اس گلستاں میں خزاں کا ڈر 
حشر سے بڑا ہوتا ہے 
اس قدر پاکیزہ کہ وہاں پر 
کوئی منظر نہیں ہوتا
ہو بھی تو  بن نہیں سکتا 
کہ نظر بھی حیا کرتی ہے
وہاں خدا کرے کہ  اک پھول
جس کی پیاس سدا  
شبنمی قطروں  سے بجھے 
رنگ  جس کے نہ پھیکے پڑیں 
اسکی ڈالی پہ روز رنگ نئے کھِلیں 
سب موسموں میں رُتوں میں 
گردشِ ماہ و سال میں 
ائے باد صبا
 یاد رہے۔۔۔!
اس کی تازگی برقرار رہے



------
ملک انس اعوان


جوتیوں کا سبق

0 comments

سرخ رنگ کی نئی گاڑی جو سیاہ سڑک کو روندتے ہوئے جھیل کے کنارے کنارے بھاگی جا رہی تھی، دور دور پھیلے ہوئے پانی پہ سفید شفاف دھند اپنے پر کھولے ہوئے آسمان کی نیلاہٹ کو ڈھک رہی تھی، پچھلی سیٹ پہ ٹیک لگائے میں شیشے سے باہر کے مناظر دیکھ رہا تھا ، اگلی سیٹوں پہ براجمان افراد بھی چپ تھے ، کچھ دیر میں ایک صاحب پیچھے مڑ کے میری جانب دیکھتے ہیں، حسب عادت نہ تو میرے زبان سے کچھ الفاظ بر آمد ہوئے اور نہ ہی میں نے چند لمحوں کے لیے گاڑی رکنے کا کہا بلکہ اشارہ کیا کہ چلتے رہیے.گاڑی کی رفتار مزید تیز ہو گئی اور آہستہ آہستہ جھیل کو پیچھے چھوڑ تے ہوئے پہاڑوں کے درمیان بنی ہوئی اکلوتی سڑک پہ دوڑنے  لگی، سڑک کے ساتھ ہی  حد نگاہ بھی محدود ہونے لگی. اور مجھے قدرے آسانی اور  راحت محسوس ہونے لگی کیونکہ  اب بولنے والے منظر آنکھ سے اوجھل ہو چکے تھے،بس ایک ہی طرز کے، قریباً ایک ہی شکل کے پتھر تیزی  کے ساتھ آنکھوں کے سامنے سے گزر رہے تھے اس قدر تیز کے ان کو پہچاننا ممکن نہیں ہو پارہا تھا، بالکل زندگی کی رفتار کی طرح جہاں ہم وقت کے ہاتھوں مجبور ہو کر ٹھیک طریقےسے چہروں کو  دیکھ بھی نہیں پاتے ہیں،باتیں کہہ نہیں پاتے ہیں اور مواقع وقت کی رفتار میں بے طرح گنوا دیے جاتے ہیں . مگر جب مطلع صاف ہوتا ہے،  کھلے کھلے منظر نظر آتے ہیں، جب کچھ کہنے اور ٹھہرنے کے مواقع  وقت خود فراہم کرتا ہے تو وہاں سے بھاگ جانے اور کہیں دور چلے جانے کو دل چاہتا ہے .
زندگی کے بے ثبات پنجرے میں یوں جان اٹک جاتی ہے کہ کھلی فضا میں بھی دم گھٹنے لگتا ہے.
سوچتے سوچتے وقت کا اندازہ بھی نہیں ہو پاتا. لوگوں کی دنیا میں واپس آتا ہوں تو گاڑی ایک چھوٹی سے مسجد کے سامنے نماز کے لیے رک چکی تھی.بظاہر تو شام کی تاریکی پھیل چکی تھی مگر میرے اندر امید کا چاند  ایک بار پھر طلوع ہو چکا تھا.
وہ جو مالک کُل کائنات ہے، اس نے کچھ تو طے کر ہی رکھا ہو گا....... بس یہی سوچ کہ نماز ادا کی، اور مسجد کے صحن میں باقی صاحبان کا انتظار کرنے لگا .مسجد کی سیڑھیوں پہ کوئی ہمارے آنے سے پہلے ہی ہماری جوتیاں سیدھی کر کے جا چکا تھا. اور جاتے ہوئے ہم بھی وہاں بعد میں آنے والوں کی جوتیاں سیدھی کر کے وہاں سے اس امید پہ روانہ ہو گئے کہ یہ سلسلہ اب جاری رہے گا.
اس ایک مغرب کی نماز کے بعد کئی سوالات حل ہو چکے تھے.

ملک انس اعوان
11 دسمبر 2016
بمقام: سرحد صوبہ پنجاب و خیبر پختون خواہ،

مرتے ہوئے امکان

0 comments



نہ مروت نہ تعجب نہ تکلف نہ بیان
لحظہ لحظہ ابھرتے ہوئے مرتے ہوئے امکان 
روح و ہستی میں اترتے ہوئے خاریدہ گلفام 
گھبراتے ہوئے کتراتے ہوئے دشمن بدنام 
اب مجھے موج تبسم میں  رواں دیکھیں گے
حال و ماضی کے تصور سے نہاں دیکھیں گے



ملک انس اعوان