ڈائری کا ایک ورق

3 comments
ایک عجب بے سکونی ہے ، فرصت سے نکلتے ہیں تو مصروفیت میں ڈوب جانے کو دل چاہتا ہے اور جب مصروفیت سے نکلتے ہیں تو فرصت کی تلاش شروع ہو جاتی ہے ۔ پہاڑ ، جنگل ،  ، ٹیلے ، سبزے ، جھیلوں اور  اونچی اونچی چھتوں والے بے ہنگم  شہروں سے اب جی اکتا گیا ہے ،یہ سب ایک ہی طرز کی  مختلف شکلیں ہیں ۔ کہیں بھی ذہن کو آسودگی حاصل نہیں ہے ۔کہیں قدرت کا شور بہت زیادہ ہے اور کہیں انسان کا ، ہر شے اپنی Body Language کے ساتھ   احساسات کا اظہار کرتی ہوئی نظر آتی ہے ، آنکھوں کے سامنے اور کانوں کے گرد احساسات کا ایک ایسا  مجمع لگا ہوا ہے کہ کسی کی با معنی آواز یا منظر ذہن تک پہنچنے سے قاصر ہے۔اور اگر ہے تو ذہن کے تنگ سے دریچے میں معانی و مفاہیم کا ایسا ہجوم ہے کہ  ، ان کے درمیان سے ہوا کا گزرنا بھی مشکل ہو جائے ۔ ایسے میں شہنشاہ (دل) چاہتا ہے کہ چیخ چیخ کر  تخلیہ! تخلیہ! کی آوازیں بلند کرے اور ذہن کے کواڑوں کو مقفل کر دے اور دربار دل کے کسی کونے میں جا بیٹھے اور    کسی راز داں کو طلب کر کے راز ونیاز کی قبر کھود کر اس کا سارا ملبہ  اس کے گوش گزار کر دے ۔۔۔۔۔لیکن ۔۔۔۔یہ خاموشی ؟  ۔۔۔یہ بھی تو کسی عذاب سے کم نہیں ۔۔۔۔سکون کہاں سے اور کیسے نصیب ہو کہ  "خاموشی" کا شور ،ہجوم کے شور سے بھی زیادہ ہیبت ناک اور دردناک ہے ، ایسی خاموشی جو روح میں اتر کر اس کو  بھی  کو گھائل کر دے اور سانس کے تاروں کو بے ہنگم طور سے چھیڑنے لگ جائے ۔ یہ ایک دو طرفہ عذاب ہے جس کے علاوہ کوئی تیسری  طرف سرے سے موجود ہی نہیں ہے ۔ اس پیچیدہ تخلیق کے  پیچیدہ ذہن نے  خود کو  بھی ان پیچیدگیوں میں ڈھال لیا ہے  کہ اب کوئی آسان چیز بھی اس کے لیے آسان نہیں رہی ہے ، یعنی اب کچھ بھی سہل نہیں ہے ۔ اور" کچھ بھی" کا مطلب افسوس کے ساتھ  صرف" کچھ بھی" ہی ہو تا ہے۔ اس سے بڑھ کر افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ سب چیزیں   بذات خود اپنی حیثیت میں  pre defined   ہیں ،اور یہ سب شہنشاہ(دل) کے حکم سے ہے۔ ستم یہ کہ ضدی نواب کی کسی بات کو ٹالا بھی نہیں جا سکتا ہے،اور اس کی ہر بات کو مانا بھی نہیں جا سکتا ہے ۔ جبکہ عذاب بہرحال پورے جسم کو نصیب  سمجھ کر  برداشت کرنا پڑتا ہے ۔

تحریر
ملک انس اعوان  
27ستمبر 2016 
بوقت  فجر 


http://www.dailymail.co.uk/news/article-2230022/Horse-photos-Award-winning-images-Emily-Hancock.html

آپ بھاگ نہیں سکتے ہیں

0 comments
لکھنا محض اس لیے ضروری نہیں ہوتا کہ آپکے پاس الفاظ کا ایک بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے یا آپ نے ایک زندگی تجربات میں گزاری ہے ، بلکے یہ تو ذاتی حد تک خود کو ہی سنوارنے کا یک فن ہے ۔ کیونکہ فی الحال  ہم یا ہم سے پہلے معلوم اور میسر تاریخ   میں جو بھی انسان سوائے امام الانبیا ﷺ     مع انبیاء کے اس  جہان میں اترا ہے نا مکمل ہے  اور بد قسمتی سے جیسے جیسے  تاریخ کا ہندسہ بڑھتا جا رہا ہے ، انسانوں کی اندر کمیوں کا تناسب بھی بڑھتا جا رہا ہے ۔جذبات کی قدر گھٹتی جا رہی ہے اور بتدریج اخلاقی گراوٹ بھی زہر کی مانند معاشروں میں پھیلتی جا رہی ہے ۔افرادی سطح سے اجتماعی سطح تک معیارات گرتے چلے جا رہے ہیں ۔ صورتحال یہا ں تک آن پہنچی ہے کہ محض معاشرے کی بات کرنے والے کو معاشرے کی جانب سے ہی   تکلیف پہنچائی جا رہی ہے اور باز رہنے کا کہا جا رہا ہے ۔ آج کل کی صورتحال میں ہماری اپنی انفرادیت معدوم ہو چکی ہے ، اب تو ہر معاملہ اجتماعی سطح کا ہے ، کسی کے بھی عمل اور اس کی تشہیر کا کسی نہ کسی پہ اثر ضرور پڑتا ہے۔ ہم کسی بھی عمل کو کر تو  گزرتے ہیں اور پھر موجودہ وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے آناً فاناً اس کی تشہیر بھی کیے دیتے ، لیکن ایک لمحے کے لیے بھی یہ نہیں سوچتے کہ اس کا اثر معاشرے پہ کیا پڑے گا ؟ کس کس کے ذہن میں تغیر برپا ہوگا ؟ کس کس سطح کے لوگ اس سے متاثر ہوں گے؟  اور بالآخر اس کا انجام کیا ہوگا۔
یہاں انجام سے مراد محض  وہ نہیں جو لوگ اس سے اخز کرتے ہیں بلکے اس سے مراد وہ سب کچھ بھی ہے جو معاشرہ ایک مخصوص دورانیے کے بعد آپکو لوٹا  دیتا ہے۔چناچہ ان حالات میں بطور ایک ذمہ دار فرد ہماری ذمہ داری   پہلے سے بہت بڑھ چکی ہے ۔ ہمارے لیے احتیاط کے پیمانے مزید  سخت اور آزمائش مزید کٹھن  کی جا چکی ہے ۔ ہاں اگر آپ ان سے فرار حاصل کرنا بھی چاہیں تو نہیں کر سکتے ۔

کیونکہ یہ آپکا معاشرہ ہے ،آپ نے انہی میں رہنا اور ان کے اثر سے کسی نہ کسی طرح سے متاثر ہوتے ہی رہنا ہے ۔ اب دیکھیے ،سوچیے ،اور فیصلہ کیجیے کہ مثبت تعمیر کے لیے یا تو آپ خود کو تیار کیجیے ، کمر باندھیے اور اس قابل بنیے کہ لوگون پہ اپنا رنگ چڑھا سکیں ، یا  ریوڑ میں موجود ایک بھیڑ بکری جیسی انفرادی  زندگی گزار دیجیے ۔۔۔۔۔ اٹھیے ، کمایئے اور مر جائیے۔۔۔۔!
تحریر 
ملک انس اعوان 

وہ قیامت کے دن

0 comments
اسی سال گرمیوں کی تعطیلات میں جامعہ کے کھلنے میں محض چند دن رہ گئے تھے ، صبح سویرے  فجر کے بعد لاہور سے ایک دینی اور قریبی دوست کا فون موصول ہوا کہ وہ شام کو میرے غریب خانے کو عزت بخشیں گے، انکی آمد اور رات کے کھانے کے حوالے سے والدہ کو آگاہ کیا اور صبح سویرے  ایک دوست کی دادی محترمہ کی عیادت کے لیے  فیصل آباد روانہ ہو گیا ، عصر کے وقت واپس گھر پہنچا تو سب کچھ معمول کے مطابق تھا ، تھکاوٹ کے باعث نیم دراز حالت میں مہمان خانے میں لیٹ گیا ، تھوڑی دیر میں والد صاحب آئے اور آہستگی سے کہا کہ "بیٹا اٹھ کر دوکان پہ چلے جانا وہاں یو پی ایس خراب ہے اسے دیکھ لینا اور ٹھیک کروا دینا "
( ہماری ایک عدد ملکیتی دوکان جو ایک صاحب کو کرائے پہ دی گئی ہے )
والد صاحب کی بات سن کر انہیں جواب دیا کہ "جی بہتر " اور پھر لیٹ گیا۔ کچھ ہی دیر میں گاڑی کی آواز آئی جس کا مطلب تھا کہ والد صاحب کہیں باہر چلے گئے ہیں ۔چناچہ اٹھا اور باورچی خانے میں والدہ کا ہاتھ بٹانے لگا اور برتن لگانے لگا ۔
عین مغرب کے وقت لاہور سے دوست گھر کے باہر پہنچے حسب وعدہ ایک اور تحریکی ساتھی بھی پہنچ گئے ، باجماعت قریبی مسجد میں نماز ادا کی ، ہماری واپس گھر آمد تک بیٹھک کی میز پہ برتن لگ چکے تھے ۔  چناچہ جلد ہی کھانا شروع کر دیا گیا ۔ ابھی چند ہی لقمے حلق سے نیچے اترے ہوں گے کہ  موبائل بج اٹھا ، سکرین پہ ایک نمبر ابھرا ، کال اٹھائی تو ایک انکل کی زوجہ محترمہ کا فون تھا ، خاتون نے اطلاع  دی آپ جلد ہی سول ہسپتال پہنچیں ۔
میں نے فون رکھا اور مہمانوں کی حرمت میں بدستور کھانے میں شامل رہا ،مگر دل میں عجیب و غریب وسوسے آنے لگے ، ایک ایک کر کے ہر کسی کی تصویر دماغ میں گھومتی رہی ، لیکن پھر اچانک ہی خیال آیا کہ ابا جان تو ابھی ابھی  گھر سے باہر نکلے تھے ، بس یہ خیال آنے کہ دیر تھی حلق میں کانٹے چبھنے لگے اور دل ڈوبنے لگا۔
فوراً ایک قابل اعتماد "دوست کم اور بھائی زیادہ" کو فون کیا اور کہا کہ آپ فوراً ہسپتال پہنچیں اور میرے آنے تک وہیں رہیں ۔
آئے ہوئے مہمان بھی میری حالت دیکھ کر متفکر ہو گئے اور جب پوچھنے پر میں نے انکو آگاہ کیا تو فوراً سے گاڑی نکالی اور ہسپتال کی جانب روانہ ہو گئے ۔ رستے میں جیسے میں نڈھال سا ہو گیا تھا ، قریباً بھاگتے ہوئے ہسپتال کی سیڑٰھیاں چڑھیں تو  شعبہ حادثات کے ایک اسٹریچر پہ میرے والد محترم کا خون آلود چہرہ میرے سامنے آگیا ،جس سے ایک پھوار کی صورت میں خون نکل نکل کر والد محترم کی قمیض کو سرخ کر چکا تھا ان کی دونوں  آنکھیں بند تھیں لیکن وہ ہوش میں تھے ۔
یہ دیکھنے کی دیر تھی ، میں جیسے پگھل سا گیا تھا ، جسیے کسی نے میرے اندر سے میری روح کو کھینچ نکالا ہو ۔ بے اختیار والد محترم کے چہرے کو ہاتھوں سے تھاما تو والد محترم نے لب ہلائے کہ "انس بیٹا کچھ نہیں ہوا میں ٹھیک ہوں ،اللہ کا فضل ہے "
ڈاکٹر جواب دے چکے تھے اورمیری ہمت بھی ،مگر میرے ذہن میں میری با ہمت والدہ کا چہرہ بار بار آئے جا رہا تھا ، ایک ایمبولینس کا انتطام کیا اور والد صاحب کو اس میں لٹایا اور رستے میں چھوٹے بھائی کے ذریعے پیسے اور ابا جان کے کپڑے منگوا کر لاہور کی جانب روانہ ہو گئے ۔
رستے میں والد صاحب کے چہرے اور آنکھ سے نکلنے والے خون کو اپنے ہاتھو ں سے صاف کرتا رہا ، والد محترم کبھی کبھی لب ہلاتے تو یہی کہتے کہ بیٹا اللہ کا فضل ہے سب خیر ہے آپ پریشان مت ہوں ۔
میں کسیے بتاتا کہ میرا سارا حوصلہ اور میری ساری ہمت تو آپ ہیں ۔۔۔۔میں کیسے سکون سے بیٹھ جاؤں ۔۔۔؟
میرا واحد حوصلہ اللہ کے بعد میرا وہ دوست تھا جو اس وقت بھی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں گیا تھا ،بلکہ میرے ساتھ استقامت کے ساتھ موجود  تھا۔ وہ 2 گھنٹے قیامت کے گھنٹے تھے ، لاہور اتفاق ہسپتال میں والد کو لے جایا گیا تو وہاں سے بھی جواب ملنے کے بعد ان کو ابتدائی طبی امداد دی اور اپنے جماعتی بھائیوں کو فون کیا اور  محض 15 منٹ میں ایک ڈاکٹر کو گھر سے بلوا کر اسکو ایک پرائویٹ ہسپتال میں آپریشن ٹھیٹر تیار کرنے کا کہا اور ،جلد از جلد والد کو وہاں منتقل کر دیا گیا ۔
ہمارے پہنچنے تک الحمداللہ سب انتظامات مکمل تھے ، والد صاحب کو اسٹریچر پہ ڈال کہ آپریشن تھیٹر لے جایا گیا اور قریباً رات 12 بجے کے قریب ڈاکٹر نے بتایا کہ الحمدللہ ان کا ناک شدید متاثر ہے البتہ چہرے اور ناک سے کون بہنا بند ہو گیا ہے لیکن خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے ۔ فوراً کسی آئی سرجن کو انکی آنکھیں بھی دکھا دیجئے گا ۔
رات کے اس پہر کیونکہ کوئی آئی سرجن ملتا بہرحال ایک دو ساتھیوں سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایاکہ اگر آپ حکم کریں تو ڈاکٹر بھیج دیتے ہیں مگر آلات کے بغیر وہ کچھ بھی کرنے کے معذور ہیں ۔۔۔۔۔ دل دوبنے لگا ۔۔۔۔۔ پھر جماعتیوں کو بلا کر ساری صورتحال بتائی انہوں نے سروسز ہسپتال لاہور میں ایک ڈاکٹر سے رابطہ کیا اور وہاں انتطامات مکمل کیے ۔
والد صاحب کے ہوش میں آتے ہی رات 1 بجے انکو سروسز ہسپتال منتقل کر دیا گیا ، جہاں فوراً طبی معائنے کے بعد ایسی خبر ملی جو قہر بن کر ٹوٹ پڑی ، ڈاکٹر سے علیحدہ ہو کر بتایا کہ دھماکے کے باعث دونوں آنکھیں متاثر ہے جبکہ ایک شدید متاثر ہے اس کا فوراً آپریشن کرنا پڑے گا اور پوری آنکھ کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کرنی پڑے گی ، یہ خبر مین اپنے والد کو کیسے سناتا دل جیسے بیٹھ ہی گیا ، میرا دوست اٹھا اور میرے والد کے پاس بیٹھ کر انہیں حوصلہ دینے لگا ، کیونکہ یہ میرے بس کی بات نہیں تھی ، اور ابا جان اس سب سے لا علم تھے ۔ آپریشن کی تیاری اور انکے ٹیسٹ شروع کر دیے گئے لیکن سرکاری ہسپتال کے ماحول سے دل مطمئن نہ ہو پارہا تھا ۔
دوست سے مشورہ کیا ، امی  جان کو صورتحال بتائی اور دل پہ پتھر رکھ کے فیصلہ کیا کہ صبح تک انتظار کیا جائے ،کیونکہ میں انکی بیہوشی کے دوران انکی آنکھ کو اپنے ہاتھوں سے دیکھ چکا تھا ۔ دل تھا کہ سنبھلے نہیں سنبھلتا تھا ۔
دوست کی گود میں سر رکھ کے آنسؤں کو چہرے کی راہ دکھائی ،جب کچھ قرار آیا تو قیامت کی یہ رات اب صبح کے سویرے میں بدل رہی تھی، ابا جان کو وہاں سے دوبارہ اتفاق ہسپتال لے جایا گیا اور وہاں داخل  کر دیا گیا ، والد صاحب بار بار مجھ سے اپنی اآنکھ میں درد کا تذکرہ کرتے اور میں کچھ کہنے کے بجائے رو پڑتا لیکن وہ اس حالت کے باوجود مجھے حوصلہ دیتے اور بار بار اللہ کے احسانات گنواتے ۔
صبح 8 بجے دوبارہ سے انکی آنکھوں کا معائینہ کیا گیا اور ڈاکٹر نے والد صاحب کو ذہنی طور پر کسی دھجکے کے لیے تیار کرنے کے لیے کچھ کچھ حقائق بتا دیے ۔
دوپہر میں انکا آپریشن شروع ہوا جو رات گئے تک جاری رہا ،شام کو ڈاکٹر نے پوچھا کہ مریض کی جانب سے کون ہے میں آگے بڑھا تو انہوں نے بتا یا کہ انکی ایک آنکھ بالکل درست ہے جبکہ دوسری آنکھ  بالکل پھٹ چکی ہے اور اس کا جڑنا قریباً نا ممکن ہے اس  لیے اب آپکے فیصلے کا انتطار ہے کہ یا تو آنکھ پہ کوشش کی جائے یا اسکو نکال دیا جائے ؟ ۔میں نے ڈاکٹرز سے فیصلے کے  لیے وقت مانگا ، فوراً سے بیک وقت 5 ڈاکٹروں سے رابطہ کیا اور انکوں صورتحال سمجھائی ، سب کا یہی  موقف تھا کہ آنکھ کو نکال دیا جائے تاکہ مستقل میں مریض کو تکیلف سے بچایا جا سکے ، پاکستان میں کسی بھی جگہ اس کا علاج ممکن نہیں تھا ۔
میں نے اپنا فیصلہ محفوظ کیا اور والدہ سے رابطہ کیا اور انکواپنے فیصلے سے آگاہ کیا ،میری ماں تو مجھ سے بھی بہادر نکلی ، باہمت ماں نے کہا بیٹا جو تمہارے والد کے حق میں بہتر ہے کر گزرو ہم اللہ کی جانب سے ہر آزمائش کے لیے تیار ہیں، میری والدہ وہ باہمت خاتون ہیں جنہوں نے میرے سامنے اپنا ایک بھی آنسو گرنے نہیں دیا اور کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ ان کے بیٹے کی قوت انکے اپنے اندر ہی کہیں موجود ہے ۔
میں نے آنکھ نکلوانے کا فیصلہ کیا ، رات قریباً 1 بجے مجھے والد صاحب کے پاس جانے کی اجازت ملی وہ آہستہ آہستہ ہوش میں آ رہے تھے۔
تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ مجھسے پانی مانگتے اور میرا ہاتھ زور سے پکڑ لیتے ، لیکن دوسرے ہی لمحے دوا اپنا اثر دکھاتی اور وہ بیہوش ہو جاتے ، اس اذیت ناک مرحلے میں میری آنکھیں تر ہی رہیں، اور میں جلد از جلد ان کے ہوش میں آنے کی دعائیں کرنے لگا۔
ہوش میں آتے ہی مجھسے اپنی بائیں آنکھ کا پوچھا مگر میں چپ رہا ، ڈاکٹر کو بلوا کر ان کی بائیں آنکھ پہ پٹی کروا دی تاکہ وہ دیکھ کر پریشان نہ ہوں ۔
اگلے دن تمام گھر والے محض کچھ ہی دیر کے لیے میری اجازت سے ابا جان کو دیکھنے آئے اور چلے گئے ، اگلے کچھ دنوں میں انکے مزید آپریشن ہوئے اور دن رات دعاؤں کا سلسلہ جاری رہا ۔پٹی اتاری گئی اور انکو حقیقت بتائی گئی ۔۔۔۔ سن کر انکے الفاظ یہی تھے کہ " اللہ نے ہی آنکھ دی تھی ، اس نے ہی واپس لے ہی شکوہ کیسا اور شکایت کیسی؟ "
یہ دعاؤں کا اثر ہی تھا کہ 2 گھنٹے خون بہنے کے باجود حادثے کے دو دن بعد ہی انکا خون جسم کے تناسب سے پورا ہو  رہا۔
بڑی عید بھی اسی کمشکش میں گزری ۔۔۔!
اب الحمداللہ ابا جان روبہ صحت ہیں ، اور حیرت انگیز طور پہ اب سے فیکٹری بھی جا رہے ہیں ، اور جلد ہی یونین سیاست میں بھی سر گرم ہوں گے ۔اور چہرے کو دیکھ کر کوئی اندازہ بھی نہیں لگا سکتا کہ یہ ہمت کا کہسار کس آزمائش سے گزرا ہے ، بے شک اللہ کار ساز ہے۔
ابتو وہ گاڑی بھی چلانے لگے ہیں ۔ صد شکر الحمداللہ
9 دن آئی سی یو میں اور 3 دن وارڈ میں  رہنے کے بعد جس دن گھر پہنچے اس سے اگلے دن ہی علاقے کے درس قرآن میں شرکت کی ،جسے دیکھ کر سارے احباب حیران و پریشان رہ گئے ۔ اللہ انکو لمبی سعادت بھری زندگی عطا فرمائے ۔
ان قیامت کے دنوں میں ہر جانب سے لوگوں کے ، جامعہ کےاساتزہ کے ،،سکول کے اساتزہ کے ، کالج کے اساتزہ کے دور اور قریب کےرشتہ داروں کے،دوستوں کے فون آتے رہے،اتنے کہ اب مجھے ان سے چڑح ہونے لگی تھی ۔
لیکن یہی تو وہ لوگ تھے جنہوں نے مجھے سہارا دیا ،ہر مرحلے پہ میری مدد کی اور میرا ساتھ نبھایا ۔
انما اشکو بثی و خزنی الی اللہ 

(یہ حادثہ یو پی ایس کے بیٹری ٹرمینل تبدیل کرتے ہوئے دھماکہ ہونے سے پیش آیا ، معجزانہ طور پہ والد محترم کا جسم کا یاک بال بھی آگ یا تیزاب  کی لپیٹ میں نہیں  آیا،جبکہ قریب پڑی ہر چیز تباہ ہو چکی تھی )

یادداشت
ملک انس اعوان 






پیچیدہ

0 comments
ایک انگریزی مقولہ ہے کہ
Sanity and happiness are impossible combinations. Mark Twain
بلا شبہ درست فرمایا ،مگر اس انسان سی مخلوق کا کیا کہنا جس میں بیک وقت لاکھوں Profiles جو کہ مختلف جزئیات پہ مشتمل ہوتی ہیں پہلے سے ہی محفوظ کر دی گئی ہیں یا اپنے فہم سے انسان نے انہیں خود ہی تخلیق ،ضائع اور اپنا سکتا ہے ، یہ بھی انسان کے حسن کا ایک پہلو ہے۔۔!
یہ سوچ کے کرشمے ہیں جو ایک ہی انسان میں مختلف کردار پیدا کرتی ہے وقت سے ساتھ ساتھ انہیں پروان چڑھاتی ہے اور حالات کے مطابقت نہ پیدا ہونے پہ اس کو تبدیل کر دیتی ہے ، مجھے نہیں لگتا کہ یہ سب کوئی باہر سے آنے والی چیز ہے ،بلکہ یہ سب پہلے سے ہی انسان کے اندر موجود ہیں ،بس موقع کی مناسبت سے کونسی Profile چلانی ہے اس کا انحصار انسان کی قوت فیصلہ پر ہے۔ بس یہیں کہیں امید وغیرہ بھی موجود ہوتی ہیں۔یہ پیجیدہ Combinaton ایک خودکار نظام کے تحت کب اور کیسے جنم لیتے ہیں ہمیں اندازہ ہی نہیں ہو پاتا۔عجیب بات ہے ۔۔۔۔!
انسان ان کہکشاؤں سے بھی وسیع ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور دلچسپ بھی ۔۔۔۔!!!



ملک انس اعوان

لوگ ہنستے ہیں آپ بھی ہنسیے

0 comments
لوگ ہنستے ہیں آپ بھی ہنسیے
تیر دل سے نکال کر ہنسیے
آپ بھی سب کی وحشت سے
اپنا حصہ نکال کر ہنسیے
 شہر بھر کے سیاہ بختوں میں
اپنا سکہ اچھال کر ہنسیے
 اب کہ ہر رخ ہی انتقامی ہے
اپنا دامن سنبھال کر ہنسیے
 اپنی آنکھیں جو ہو سکے ممکن
میری آنکھوں میں ڈال کر ہنسیے

ملک انس اعوان


سر شام شکست

0 comments

ابھی کل ہی کی تو ہے بات
میں سر شام چپ سا ہو گیا تھا
سامنے پیڑ قطار اندر قطار
ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے
ایک دوجے پہ بوجھ ڈالے ہوئے
جیسے گزرتے وقت کے نوحے پڑھ رہے ہوں
سیاہی چھانے لگی تھی
افق پہ ڈوبتے سورج کی جاں
کہ جیسے نیزے کی نوک پہ آ ٹکی تھی 
پنچھیوں کے شور سے دل ڈوب رہا تھا
عجب اک آزمائش تھی
سایہ دل میں دھوپ بھری تھی
خامشی تھی ساتھ میں تو بھی کھڑا تھا
اجنبیت لہجے میں کیوں آ جمی تھی
راستے تھے، مگر میرے نہیں تھے
ہمنشیں تھے، میرے نہیں تھے
سبھی کچھ داؤ پہ جو آ لگا تھا
اگر میں بولتا
بولتا بھی تو کیسے
میں تو جود سے لڑ کر گرا تھا
میں اپنے آپ سے تھک کر گرا تھا

ملک انس اعوان

پتہ بتا رہا ہے

0 comments

مجھے یقیں ہے کہ اب کی بار بارش میں
دور کہیں کلیاں بھی کھلتی جاتی ہیں
رنگ زمیں کا پتہ بتا رہا ہے
کہاں کہاں سے سبزہ کشید ہونا ہے
شاید تم  مجھے سن رہے ہو
یہ بھی اک پہلوئے زندگی ہے دوست

ملک انس اعوان