ہم درمیان والے

0 comments

عوام میں یہ خیال عام پایا جاتا ہے کہ اہلیان داڑھی شریف کے دل اور زہن رومانویت اور ادب سے خالی اور نا واقف ہوتے ہیں، جو کہ بالکل غلط تاثر ہے. آپ انکے پاس بیٹھ کر تو دیکھیے..... خاکسار نے ایک معزز عالم دین کی زبانی منبر پہ غالب کی تعریف سنی ہے، اس میں بات ساری ظرف اور ذوق کی ہے، اسی طرح ہم بذات خود ایسے آئمہ مساجد کو جانتے ہیں جن کے پاس ذاتی بیٹھک کا زیادہ تر حصہ شعر و شاعری پہ مشتمل ہوتا ہے.
سب سے دلچسپ چیز یہ ہے کہ ان کے ہاں احساسات کو حدود کے اندر اس طرح قید کیا جاتا ہے کہ گٹھن کی بجائے لطف پیدا ہونے لگتا ہے، سننے اور سنانے والے یہ بات جانتے ہی ہیں کہ "کہہ دینے" میں کوئی کمال نہیں ہوتا ہے بلکہ کمال "نہ کہہ" کر بھی کہہ دینے میں ہوتا ہے.
پچھلے دنوں ہی ایک مولانا صاحب نے اپنی لکھی ہوئی غزل سنائی تو سن لینے کے بعد  تبصرے کے لیے میری جانب دیکھنے لگے تو میں نے لمبی سانس بھر کر محض اتنا ہی کہا کہ
آپ سیدھا سیدھا کیوں نہیں کہتے ہیں جو جون ایلیاء نے کہا تھاکہ
"جو نہیں ہے وہ خوبصورت ہے "
اتنا سننا تھا کہ بے اختیار ہنسنے لگے اور کافی دیر ہنستے رہے اور کہنے لگے اٹھ شیطان بھاگ یہاں سے ....!
پاکستان کے مشہور ارادے سے درس نظامی کے آخری سال کے ایک طالب علم سے ملاقات ہوئی باتوں باتوں میں ذکر چل پڑا تو انہوں نے اپنا کلام سنانے کی خواہش کا اظہار کیا، پاس ہی چند اور طلبا بھی بیٹھ گئے، مولانا نے نظم سنانا شروع کی.. جس میں وہ حور کو مرحلہ وار عرش سے فرش پر لا رہے ہیں، شاعری واقعی خوب تھی سماں بندھ گیا، اب صورتحال کچھ یوں تھی کہ وہ مذکورہ "حور" محترمہ بس اب کے زمینِ انسان پہ قدم رکھنے ہی والی تھیں کہ مولانا نے اگلے ہی مصرعے میں موصوفہ کو دوبارہ جنت پہنچا دیا.
پیچھے بیٹھے ہوئے ایک طالب علم جو کافی انہماک سے سن رہے تھے، جھنجھلا کر ، منہ بنا کر بولے
"مولانا اگر واپس ہی بھیجنا تھا تو اتنا تکلف کیوں کیا؟"
انکی بات سن کر انکے ساتھ بیٹھے ہوئے دوسرے طالب علم نے انکا کندھا تھپتپایا اور سمجھانے کے انداز میں کہنے لگے کہ
"حافظ تجھے ایک کی پڑی ہے میں نے تو 70 حوروں کی فیملی پلاننگ کر رکھی ہے "
یہ سننا تھا کہ ضبط کے بندھ ٹوٹ گئے اور سب اتنا ہنسے کہ باہر سے انکے استاد محترم کو خیریت معلوم کرنے آنا پڑا.
باقی ہم جیسے تو اہل جبہ و دستار کے ہاں  کچھ معاملات میں قدرے" لبرل "تصور کیے جاتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے  عام افراد ہمیں مذہبی تصور کرتے ہیں :) ، اس طرح دونوں جانب اپنی گنجائش خودبخود نکل آتی ہے. اور ہم دونوں جانب سے مستفید ہو پاتے ہیں.
ملک انس اعوان

جمال

0 comments

جمال حسنِ عمل ہے 
جمال حسنِ بیاں ہے 
جمال ابر کی صورت
جمال آبِ رواں ہے
جمال موج تبسم 
جمال اشک رواں ہے 
جمال شوقِ طلب ہے 
جمال ذوقِ زیاں ہے 
جمال گوشہِ موجود 
جمال محض گماں ہے 
جمال نعرہ مستی 
جمال طرز فغاں ہے 
جمال حکمتِ منبر 
جمال حکمِ ازاں ہے 
جمال سجدہ ساجد
جمال وصفِ نہاں ہے 
جمال چشمِ مصور 
جمال اور کہاں ہے؟



ملک انس اعوان 
نوٹ :اس کا تعلق وحدت الوجود یا شہود سے نہیں ہے بلکہ محض جمالیاتی حسن کی نشاندہی ہے.

صحرا کا شیر

0 comments
مختصر افسانہ "2"
وہ ادھیڑ عمر خاتون پریشانی کے عالم میں خیمے کے اندر ٹہل رہی تھی. چند مزید خیموں  اور خواتین کے علاوہ اس تپتے صحرا میں دور دور تک سوائے ریت کے ٹیلوں کے کچھ نظر نہ آتا تھا. جیسے جیسے مغرب کا وقت قریب آ رہا تھا اس کی بے چینی بھی بڑھتی جا رہی تھی.انتہائی ضرورت کا سامان ایک پوٹلی کی صورت میں باندھ کر خیمے کی ایک جانب پڑا ہوا تھا. جیسے ہی کہیں دور فضا سے کسی اطالوی ہوائی جہاز کی آواز ہوا کو چیرتی ہوئی اس کے کانوں تک پہنچتی تو وہ اس پوٹلی کو اٹھاتی اور خیمے کے دروازے پر آ کر کسی محفوظ مقام کی جانب بھاگ جانے کے لیے کھڑی ہو جاتی، مگر اس دوران بھی اس کی آنکھیں ان سنہرے ٹیلوں میں کسی کو تلاش کر رہی ہوتیں .
انتظار کے لمحے کٹھن ہوتے جا رہے تھے اور خاتون کی زباں پہ دعاؤں کا سلسلہ جاری ہو چکا تھا. سورج اپنی نیند پوری کر نے کے لیے پر تول رہا تھا کہ اچانک ایک دوسری عورت جس کا خیمہ قدرے بلند مقام پر تھا قریباً چیختے ہوئے عربی زبان میں اس خاتون کو مطلع کرتی ہے کہ وہ دیکھو "صحرا کا شیر" کا شیر آ رہا ہے!
ادھیڑ عمر کی خاتون یہ سنتی ہیں تو خوشی سے پھولے نہیں سماتی ہیں، جلدی سے پوٹلی کھولتی ہیں اس میں سے کھانے کا سامنا نکالتی ہیں اور جو جو کچھ میسر تھا اس کے ساتھ دسترخوان سجا دیتی ہیں.
وہ پردے کی اوٹ سے دیکھتی ہے کہ.....
ایک 60 سے ستر سال کے درمیان کا  ایک بوڑھا ، ہاتھ میں اطالوی فوج سے چھینی ہوئی بندوق تھامے عجیب جاہ و جلال سے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ خیموں کی جانب  چلا آ رہا تھا . اس بوڑھے کو جس کو دنیا صحرا کا شیر کا شیر کہتی ہے، جیسے ہی خیموں کے نزدیک پہنچتا ہے اس کے دیگر ساتھی منتشر ہو جاتے ہیں.
وہ ادھیڑ عمر خاتون اب بھی پردے کی اوٹ سے اس بوڑھے کو دیکھ رہی تھی. جیسے ہی بوڑھا خیمے میں داخل ہونے لگتا ہے،
اور وہ خاتون بلند آواز میں کہتی ہیں کہ "اللہ کا شکر کہ جس نے تمہیں خدا کی راہ میں جان نچھاور کرنے کے لیے مزید زندگی عطا فرمائی"
اتنا کہہ کر خاتون آگے بڑھ کر اور بازو بلند کر کے دروازے کے پردے کو اوپر اٹھا دیتی ہیں، کہ کہیں اس  شیر کو خیمے میں داخل ہونے کے لیے اپنا سر نہ جھکانا پڑے...... الله اکبر....!
یہ بوڑھا لیبیا کے عظیم مجاہد رہنما اور معلم قرآن "عمر مختار شہید" تھے اور وہ خاتون ان کی بیوی تھیں.
بلاشبہ اگر وہ بوڑھا صحرا کا شیر تھا تو ان کی بیوی بھی صحرا کی شیرنی تھی.
______
ملک انس اعوان

مختصر افسانہ

0 comments

قریباً یہی سردیوں کے دن تھے. کڑاکے کی سردی پڑ رہی تھی. چاروں جانب دبیز دھند کا راج تھا جس کے باعث سڑکیں اور گلیاں سنسان تھیں. ایسے میں شہر کے ایک مشہور و معروف مدرسے کے ایک جانب برآمدے کے اندر ایک برقی بلب جل رہا تھا. اور اسی کے پہلو میں چند افراد کی دھیمی دھیمی آوازیں آ رہی تھیں، ان افراد میں ایک مفتی صاحب اور انکے 7 شاگرد اور دوسری جانب ایک یونیورسٹی کا طالب علم تکیوں سے ٹیک لگائے کسی بات پہ احسن انداز میں گفتگو کر رہے تھے.
اس یونیورسٹی کے نوجوان کا موقف تھا کہ اقامت دین کا کام ایک اجتماعی فریضہ ہے.
جبکہ دوسری جانب مفتی صاحب کا کہنا تھا کہ، آپ اپنا آپ درست کر لیں دنیا خودبخود درست ہو جائے گی، سب سے پہلے نفس کی اصلاح کریں جب یہ ہو گئی تو پھر آگے کا دیکھیں گے.
مفتی صاحب کے تمام شاگردنہایت دلچسپی اس سارے معاملے کو دیکھ اور سن رہے تھے.
دونوں جانب سے دلائل کا سلسلہ جاری تھا لیکن کوئی بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھا. بالآخر جب بات بنائے نہ بن پا رہی تھی تو وہ نوجوان تیزی سے اٹھا اور  کمرے کا دروازہ کھول کر واپس اپنی جگہ پہ آ کر بیٹھ گیا.
مفتی صاحب نے فوراً اپنے گرد لپیٹے ہوئے کمبل کو مزید کَس کر اپنے گرد لپیٹ لیا اور سختی سے اپنے شاگرد سے بولے کہ جائیں اور دروازہ بند کریں ٹھنڈ اندر آ رہی ہے.
لیکن نوجوان نے اپنے پہلو سے اٹھتے ہوئے مدرسے کے طالب علم کو روک لیا.
طالب علم کشمکش کے عالم میں وہیں زمین پہ اکڑوں ہو کر بیٹھ گیا.
نوجوان نے مفتی صاحب سے پوچھا "جی مولانا آپ نے دروازہ بند کرنے کا کیوں کہا؟، آپ اپنا کمبل درست کریں اور الله سے دعا کریں کہ یا الله خودبخود کمرے کا درجہ حرارت معتدل ہوجائے"
مفتی صاحب  بغیر وقت ضائع کیے ہاتھوں کو آپس میں رگڑتے ہوئے بولے کہ
جب تک دروازہ بند نہیں ہو گا میری کوشش کے باوجود ٹھنڈ لگنے کا خدشہ موجود رہے گا اور میرے علاوہ یہ میرے شاگرد وں کا کیا بنے گا؟
تو وہ نوجوان دھیما سا مسکرایا اور بولا "مفتی صاحب یہی بات تو میں آپکو کتنی دیر سے سمجھا رہا ہوں کہ اگر دین کو بچانا ہے تو ریاست میں اقامت دین کی جدوجہد لازمی ہے تاکہ کفر کی آمد کا دروازہ ہی بند کیا جا سکے.
یہ دروازہ بند نہ کیا گیا تو صبح تک آپ تو شاید اپنے کمبل کے باعث بچ جائیں مگر آپکے شاگردوں کی قلفی جم جائے گی.
اتنا کہہ کر وہ نوجوان اٹھا اور جاکر دروازہ بند کر دیا اور واپس اپنی جگہ پر بیٹھ کر اپنی بات جہاں سے ختم کی تھی وہیں سے شروع کر دی کہ
اب دیکھیے ناں زرا سا بستر چھوڑ کر اور اپنے نفس سے زیادہ اجتماعیت کی فکر اختیار کرتے ہوئے اٹھ کر دروازہ بند کر دینے سے آپ کے علاوہ اس پورے کمرے میں موجود ہر کسی کا فائدہ ہو رہا ہے اور ہر کسی کو اسکی ذاتی حد تک بھی تقویت مل رہی ہے.
مفتی صاحب نے داڑھی کھجاتے ہوئے اور اپنے کمبل کی گرفت ڈھیلی کرتے ہوئے پر فکر انداز میں اس نوجوان کی جانب دیکھا اور بے اختیار مسکرا اٹھے اور کہنے لگے.
لڑکے تم ٹھیک کہتے ہو.....!
___
ملک انس اعوان

روداد

0 comments
اک جستجو مسلسل ہے
جانے کب
تھکن ٹوٹے گی
کب شوخ ہواؤں کے بادباں کُھلیں گے
زمیں، فلک اور ستارے آ ملیں گے
رنگ و نور کے چھینٹوں سے چہرے پھر دھلیں گے
خلعت مُشک سے سب پیرہن یک بار سجیں گے
ہنسیں گے...
وہاں کے سب مکیں ہی دلربا ہیں
حسیں ہیں خوبصورت ہیں جواں ہیں
مکاں ہیں موتیوں کی شال اوڑھے
مگر چھوڑے سبھی اک جانب رواں ہیں
کسی نے کہہ دیا کہ متوجہ سبھی ہوں
ختم الرسل، مولائے کل، ساقی کوثر وہاں ہیں
چلیں پھر شوق تھامے دل کو آنکھوں کو سنبھالے
سبھی ہی چاہتے تھے سب سے پہلے
وہی ہو جو مرکز حسن و جمال آنکھوں میں بسا لے
جہاں کی مستیوں کو پلکوں پہ سجا لے
بڑھ کر دست اقدس سے جام کوثر کو اٹھالے
تبھی پھر انتہائے شوق سے گھبرا کر پُتلیوں نے
دامن چشم کو بے طور چھوڑا
گھٹن اور جبس سے  تنگ اس دل کو جھنجھوڑا
ائے خدا اب کب تلک یہ خواب دیکھوں
ادھوری دید کے کیوں کب تلک یہ باب دیکھوں
رب العالمین.....
اک التجا ہے آرزو ہے یہی دعا ہے 
سنا ہے مانگنے والوں کی تو ہی مانتا ہے
جو میرے دل میں ہے تو جانتا ہے
سو تجھ سے مانگتا ہوں
وہی جو تو جانتا ہے....!
_______
ملک انس اعوان

قصر اذیت

0 comments
ہم بھی عجیب لوگ ہیں. عجیب اس طرح سے کہ جب مصروفیت میں کھو جاتے ہیں تو اپنا آپ بھلا بیٹھتے ہیں اور پھر جب اندر کا خالی پن وجود سے باہر آنے لگتا ہے تو کسی اندھے کی طرح اپنی چھڑی ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں. گرتے پڑتے، رینگتے، گھسٹتے خود کی تلاش میں نکل جاتے ہیں. دور دور تک جاتے ہیں، طرح طرح کے طریقے آزماتے ہیں. اپنے وجود کے محل کے تالے توڑنے لگتے ہیں. ایک دروازے کے بعد دوسرا اور اس طرح ان گنت دروازوں کے تالے توڑتے ہوئے ہم بالآخر اپنے آپ تک پہنچ جاتے ہیں. ہم کیا دیکھتے ہیں......؟
ایک چھوٹا سا بچہ جو "نفس" کی آغوش میں پڑا سو رہا ہوتا ہے. ہم جیسے ہی آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں،نفس اپنی گود میں پڑے ہوئے بچے کو جگا دیتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ دیکھو یہ کون آیا ہے؟
وہ ضدی غصیل بچہ آنکھیں کھولتا ہے، ہمیں دیکھتا ہے اور روتے ہوئے نفس سے لپٹ جاتا ہے.
ہم اس نفس سے بچے کو حاصل کرنا چاہتے ہیں، روتے ہیں، فریاد کرتے ہیں اس کے پاؤں پکڑتے ہیں، مگر سب بے سود....... ہمارا اپنا اندر والا حصہ ہمیں ماننے اور جاننے سے انکار کر دیتا ہے، اس مقام پہ اذیت اپنی حد کو چھونے لگتی ہے، رونا چاہتے ہیں لیکن رو نہیں پاتے ہیں،  گڑگڑانا چاہتے ہیں لیکن گڑگڑا نہیں پاتے ہیں، ایسے جیسے شریانوں میں موجود لہو، شریانوں سے الجھنے لگ جائے.
سب تدبیریں ناکام رہتی ہیں تو قوت والے لوگ آگے بڑھ کر بچے کو چھیننے کی کوشش کرتے ہیں، مگر نفس کے ہاتھوں زخمی ہو کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں. سب رستوں کو کھلا چھوڑتے ہوئے، جس میں سے دیگر لوگ بھی آپکی ذات کے محل میں جھانکنے لگتے ہیں.
جبکہ کچھ اچھے لوگ احتیاط کرتے ہیں،  دوبارہ حاضری کے لیے اٹھتے ہیں، ایک ایک دروازے کو بند کرتے ہوئے باہر آ جاتے ہیں. اپنے رب سے مدد مانگتے ہیں اس کی نصرت طلب کرتے ہیں اور دوبارہ اپنی ذات کے محل میں جاتے ہیں، بار بار جاتے ہیں، اتنی بار جاتے ہیں کہ وہ بچہ آپ سے مانوس ہونے لگتا ہے اور نفس کی گرفت ڈھیلی پڑنے لگتی ہے، ایک وقت ایسا آتا ہے کہ آپ کی ذات، آپ کا اپنا آپ، آپ کا وجود، آپ کو حاصل ہو جاتا ہے. نفس کو وہیں کہیں بند رہنے دیجیے اور سب تالے لگا دیجیے اور بچے کو اپنے ساتھ باہر لے آئیے.
اس بچے کو نفس سے ہمیشہ دور رکھیے، اس کے ساتھ سمجھوتوں کا معاملہ کیجیے، اس کی سنیں، اس کو وقت دیں، محبت سے طریقے سے، سلیقے سے اس کو پروان چڑھائیں. جب اس کا قد آپکے قد کے برابر ہو جائے تو سمجھ لیجیے کہ آج آپ مکمل ہو گئے.
کامیابی کی بس ایک ہی شرط ہےکہ .......
تب تک دستک دیجیے، جب تک دروازہ نہیں کھلتا.
تحریر
ملک انس اعوان

وہ درست کہتے تھے

0 comments
آج سے کچھ سال پہلے ہم نے ایک طوطے کو خریدا اور بہت محبت اور محنت سے اسے طرح طرح کے کرتب سکھائے، بولنا سکھایا اور اتنا مانوس کر لیا کہ وہ گھر کے کسی بھی فرد کے کندھے پہ سوار ہو جاتا اور "میاں مٹھو میاں مٹھو" کے شور سے پورا گھر سر پہ اٹھائے رکھتا.
2 بجے کے آس پاس جب قریبی سکول میں چھٹی ہوتی تو وہ مرکزی آہنی دروازے کے اوپر آ بیٹھتا اور گزرنے والے بچوں سے خوب چھیڑ چھاڑ کرتا  اسکی یہ ادائیں اس قدر بھاتیں تھیں کہ ہم اسے قید نہیں کر پاتے تھے .
ایک دن کوئی آدمی آیا اور کو دروازے پر سے چوری کر کے چلا گیا.
پورے گھر میں افسردگی چھا گئی، سب لوگ چور کو کوس رہے تھے اور میں خود کو کہ ہم نے اسے بات کرنا سکھایا، پاؤں کے اشاروں سے سلام کرنا سکھایا، سیٹی اور گھر کی ڈور بیل کی آوازوں کی نقل اتارنا سکھائی، الغرض اپنی تسکین کے لیے اسے سب کچھ سکھایا جو اسے نہیں آتا تھا. لیکن اڑنا نہیں سکھایا، فطری انداز میں رہنا اور اپنا دفاع کرنا نہیں سکھایا.
صرف اس ڈر سے کہ کہیں یہ اڑ کر بھاگ نہ جائے. صرف اس بنیاد پر کہ ہمیں اس سے محبت تھی.
تادم تحریر  میرے گھر تیسرا طوطا موجود ہے مگر ہمارا برتاؤ بہت مختلف ہے. ہم اسے ایسے کمرے میں رکھتے ہیں جہاں لوگوں کا گزر کم ہو،  نہ ہی اس کے قریب جاتے ہیں، نہ ہی اس سے بات کرتے ہیں، کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ ہم اس سے مانوس ہوں اور وہ ہم سے مانوس ہو. دیکھنے میں یہ پہلے دونوں سے خوبصورت اور دلکش ہے. ہم اس سے اس لیے دوری بنا کر رہتے ہیں کہ یہ اپنی فطری طرز عمل میں ڈھلا رہے، انسانوں سے ڈرا رہے،قید کو قید سمجھے اور اپنے پروں کی قوت پہ انحصار کرے.
ہم یہ ناروا سلوک اسی کی محبت میں اسی کی بہتری کے لئے برت رہے ہیں حلانکہ ہم اگر چاہتے تو اس سے برعکس اس سے اپنی ذات کی تسکین کا ذریعہ بھی بنا سکتے تھے اور بے شک ہم اس چیز پہ قادر بھی ہیں.
لیکن
ان شاءاللہ جلد ہی ہم اسے آزاد کرنے والے ہیں.
بڑے کہا کرتے تھے کہ اگر بچوں میں احساس ذمہ داری اور خیال رکھنے کی خاصیت کو بیدار کرنا ہو تو انہیں پالتو جانداروں کے قریب رکھیں. واقعی وہ درست کہتے تھے.
تحریر
ملک انس اعوان