جستجوئے یقیں

0 comments
ہم ہمیشہ سے ہی دو ہی رہے ہیں، ایک "یہ" اور ایک "وہ"۔
۔"یہ" وہ ہے جو"منظر" میں موجود ہے . یہ تربیت یافتہ بھی ہے اور تربیت پزیر بھی، اس کا کچھ حصہ میرے اختیارا میں ہے جسے میں مٹی کے برتن کی طرح سوچ کے مدار پہ ڈھال، سنبھال اور اتار سکتا ہوں . بیک وقت بنا سکتا ہوں، بگاڑ سکتا ہوں۔
جبکہ اسی "یہ" کا وہ حصہ جو میرے بس میں نہیں ہے وہ لوگوں کے ذہنوں میں انکے میرے متعلق احساسات کی صورت میں موجود ہے. یہاں معاملہ اختیار کا نہیں "نظر" کا ہے۔
"وہ " وہ ہے جو اصل میں موجود ہے لیکن منظر میں موجود نہیں ہے، یہ وہی" وہ "ہے جو باہر آنا چاہتا ہے،لیکن اپنے غلاف کے اندر لپٹا ایک جانب دھرا ہوا ہے، بے چین بھی ہے اور بیزار بھی، بیمار بھی اور لاچار بھی. اس بیچارگی و بیماری کا علاج صرف" یقین "کے ذائقے میں دھرا ہے۔
ایسا یقین جو امید پہ حاوی ، حقیقت پہ مبنی، تخیل میں کامل اور سلسلوں میں مکمل ہو۔

تحریر
ملک انس اعوان


ڈر اور لالچ

0 comments
ہزار نسخوں، کتابوں، تحریری و تقریری مواد سے کہیں زیادہ کارآمد شے آپکا اپنا زہن ہے. یہ کیسے اور کس معیار کے تحت فیصلے کرتا ہے، کہاں کہاں کیسے تبدیلیاں قبول کرتا ہے یہ سمجھنا سب سے زیادہ ضروری ہے. اس ضمن میں وہ چیزیں جو زہن اور عقل پہ سب سے زیادہ پر اثر ہیں ان میں سے پہلا "ڈر" اور دوسری چیز "لالچ"ہے . 
ایک لمحے کے لیے رکیے.... یہ دونوں چیزیں اپنی ذاتی حیثیت میں بری نہیں ہیں بلکہ محض فطری احساسات ہیں. ان فطری احساسات کو Deal کیسے کرنا ہے اس کے لیے خالقِ فطرت و قدرت کا تیار کردہ انسان کے لیے آخری اور بہترین user manual اٹھا لیجیے اور سمجھیے کہ خالق نے بار بار کیوں آیات مبارکہ میں کہیں دوزخ سے ڈرایا ہے اور کبھی جنت کے حسین مناظر کی خیالی تصویر سے نیکی کی جانب راغب کیا ہے. 
اب پھر رکیے...... غور کیجیئے کہ الله آپکے نفس کو kill نہیں کر رہا بلکہ modify کر رہا ہے کبھی جہنم کے ڈر سے اور کبھی جنت کے لالچ سے، بس یہی کچھ آپکو کرنا ہے. 
یعنی.... خود سے لڑنا نہیں بلکہ اپنی ذات سے مذاکرات کرنے ہیں، اس کو مائل کرنا ہے اور اس عمل کے پریکٹیکلی کئی طریقے ہیں اور کئی انداز، حسب ضرورت کسی بھی دوا کا استعمال کیا جا سکتا ہے، ان طریقوں پہ پھر کبھی تفصیل سے بتایا جائے گا اب آ جائیے 
"ڈر " کے ذکر کو کھولتے ہیں. 
ڈر پہ قابو پائیے،کیونکہ انسانی ذہن ایک وقت میں صرف ایک ہی قسم کے ڈر کا سامنا کر سکتا ہے، ڈر کا جھمگٹا اس کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے اور باقی صلاحیتوں پہ بھی غالب آنے کی کوشش کرتا ہے. 
لہذا ڈر کو خدا تک محدود کر دیجیے اور باقی ہر قسم کے خوف سے خود کو آزاد کر لیجیے. کیونکہ جس قدر آپ اپنے ڈر کو قابو میں رکھ سکیں گے اتنی ہی تیزی سے امید آپ کے اندر پیدا ہوگی اور فروغ پائے گی. 
دوسری چیز تھی"لالچ"یہ بھی انسان کے اندر خدا کی جانب سے ایک Built in Function ہے ،لالچ بذات خود اپنے اندر ڈھیروں احساسات کا مجموعہ ہے مگر اس کے اجزاء ترکیبی  یعنی recipe میں سب سے اہم چیز چاہت ہے. آپ کسی بھی چیز کو  کسی بھی حد تک چاہ سکتے ہیں لہذا اپنی چاہت کو مثبت چیزوں میں  اس طرح تقسیم کر دیجیے کہ منفی اشیاء کے لیے آپکے پاس کوئی چاہت باقی نہ رہے.
آپکا یہی عمل آپکی توجہ کو بھی تقسیم کرتا ہے. اور جب توجہ تقسیم ہوتی ہے تو وقت کی تقسیم بھی خود بخود ہوتی چلی جاتی ہے. 
آپ سے زیادہ آپ کو کوئی نہیں جانتا ہے لہذا اپنے آپ سے دوستی کیجیئے، سمجھائیے اور احساسات کو قابو کرنے میں خود کفیل ہو جائیے. 


تحریر 
ملک انس اعوان




دھواں دار تخیل

0 comments

کافی غور کے بعد انکشاف ہوا یا کیا جارہا ہے کہ یہ جو ہم سرِ شام حسب طبعیت ریلوے اسٹیشن پہ بادلوں کا نظارہ کرنے اور حسب توفیق ٹہلنے جاتے ہیں اس دوران ہمارے تخیل میں دھویں کی مقدار  زیادہ کیوں ہو جاتی ہے؟
اس لیے کہ وہاں پہ شہر بھر سے آئے ہوئے چھوٹے طیارے ہمارے ارد گرد "ریفیولنگ" اور پرواز کی نیت سے اجتماعی طور پہ اڑان بھرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کے باعث نشیلا دھواں اکثر و بیشتر ہوا کے سر پہ سوار ہو کر ہماری جانب لپکتا ہے، جو بالآخر کسی نہ کسی صورت ہمارے تخیل تک پہنچ جاتا ہے. شہری انتظامیہ کو اس ضمن میں بھی سوچنا چاہیے، یا ریلوے اسٹیشن کی حدود کو سرکاری طور پر رن وے قرار دے کر اس کا انتظام اپنے سر لے لینا چاہیے . وگرنہ جس رفتار سے طیاروں کی تعداد بڑھ رہی ہے کچھ بعید نہیں کہ چند ماہ تک یہاں  بین الاقوامی پروازوں کے ساتھ ساتھ باقاعدہ فضائی کرتب کے مظاہرے بھی دیکھنے کو ملیں گے.....!
ارے ہاں رکیے اسپانسر کا نام تو سنتے جائیے.

اس انکشاف میں ہمارے ساتھ تعاون کیا ہے محمد اجمل مہوٹہ سکنہ پکہ ملانہ تحصیل و ضلع ڈیرہ اسماعیل خان.

ملک انس اعوان
بمقام :ریلوے اسٹیشن، اٹک شریف
کیفیت : معتدل شریف
3 مئی 2017

تذکرہ لسی شریف

0 comments


غالباً بلکہ یقیناً ستمبر 2013 میں ہم اعلی تعلیم کے حصول کے لیے اٹک شریف تشریف لے آئے تھے  یاد رہے کہ اس وقت "آستانہ عالیہ ہاسٹلیہ" کی عدم موجودگی کے باعث اٹک "شریف" نہیں تھا بہرحال ان دنوں سے جنوری 2014 تک ہم اپنے احباب کو گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ شاید ہی کوئی ہوٹل، ڈھابہ ہم سے بچ گیا ہو جہاں ہم نے لسی شریف کا سوال نہ کیا ہو.... وہ کہتے ہیں ناں کہ
"قسمت میں قید لکھی تھی فصل بہار میں"
کیونکہ ہماری آمد کے بعد موسم سرما کا آغاز ہو چکا تھا، چناچہ جیسے تیسے سردیاں جہاد بالنفس کرتے ہوئے گزاریں اور گرمیوں کا انتظار کیا یا  اس دوران اپنے دستِ نیم نازک سے ہاسٹل میں ہی اپنی روحانی تسکین کا سامان کیے رکھا.
اب تو الحمداللہ جوبھی موسم ہو، کہیں نہ کہیں سے لسی شریف درآمد کروا ہی لیتے ہیں.

انس اعوان

رشتے پرندے

0 comments

رشتے بھی کسی حد تک پرندوں کی طرح ہی ہوتے ہیں، انکو اول تو پالیے نہیں، اگر پالیے تو خوب دیہان سے پالیے. اور جب پر نکل آئیں تو مزید قید میں مت رکھیے. کیونکہ ایسا کرنے سے یا تو وہ پنجرے کو اپنی دنیا سمجھنے لگے گا یا پنجرے سے سر پھوڑنے کی کوشش کرے گا. اس کے پَر کبھی مت کاٹیے.... ورنہ وہ بظاہر زندہ پرند اڑنے کی چاہ میں اندر سے مر جائے گا. جو اڑنا چاہے اسے اڑا دیجئے، جو لوٹ آئے اسے پناہ دیجیے لیکن............ پنجرہ توڑ دیجئیے . آپ کو بس اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہے تاکہ آپ کے لیے اور آپ کے بعد والوں کے لیے قدرت اپنے حقیقی رنگ میں نکھر سکے.
ملک انس اعوان

اٹک کے حجام

0 comments

اگر آپ اٹک کے باہر کسی اور ضلع سے تعلق رکھتے ہیں تو کچھ عرصہ اٹک شہر میں ریہائش رکھنے کے بعد آپ یہ بخوبی جان پائیں گے کہ یہاں کے سب سے زیادہ نخرے والا طبقہ "حجام" ہیں، حیرت تو ہوئی ہو گی!
ہونی بھی چاہیے کیونکہ بات ہی کچھ ایسی ہے، دراصل راولپنڈی کے قریب ہونے کی وجہ سے "پنڈی بوائز" کا ایک
مخصوص انداز کسی حد تک یہاں کے نوجوانوں میں بھی پایا جاتا ہے. لہذا عموماً شہری علاقوں میں نوک دار اور غیر معمولی داڑھی کے خط اور بالوں کے انداز زیادہ دیکھنے کو ملیں گے. اول تو آپ کو حجام سے فون پہ وقت لینا پڑے گا اور ایک اچھے بچے کی طرح عین وقت پر کرسی تک پہنچنا بھی ہو گا ورنہ آپ کے حصے کا وقت صدر مملکت کسی اور کے لیے وقف کر چکے ہوں گے، کھانا کھانے کے وقت یا  انتہائی اوقات میں اگر آپ کسی مجبوری سے بھی چلے جائیں تو بڑا پکا سا منہ بنا کر انکار سننا پڑے گا. اور تو اور اگر آپ ہماری طرح وسطی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ہوئے تو آپ کو اندر ہی اندر میری طرح جلنا بھننا بھی ہو گا کہ" واہ ملک صاحب بستی جئی نہیں ہو گئی؟ "کیونکہ کم از کم ہماری اپنی صورتحال یہ ہے کہ ایک تو ہم پہلے ہی ماشاءاللہ سادہ سے ہیں اور اگر نائی کی دوکان پر چلے بھی جائیں تو کم از کم اپنے علاقے میں ٹھیک ٹھاک پروٹوکول وصول کرنے کی عادت رکھتے ہیں، یا جاتے ہی ان کے پاس ہیں جو ہمیں جانتے ہوں. ہمارے ہاں تو اگر وہ الله کے بندے کھانا بھی کھا رہے ہوں تو گاہک کو دیکھتے ہی کھانا چھوڑ دیتے ہیں. جبکہ اٹک میں جب تک نائی محترم بذات خود تمام اہم امور نمٹا نہ لیں تب تک گاہک کی جانب دیکھتے بھی نہیں اور جیب کی کھال بھی ثواب سمجھ کر اتارتے ہیں.

ملک انس اعوان

ہندسوں کا طواف

0 comments

سیاہ اندھیرے کا راج تھا ،ننھیالی ڈیرے پہ  آم کے قدیم اور بلند سایہ دار درخت کے عین سامنے چند چارپائیاں بچھی ہوئی تھیں . جن پہ ایک وین ڈرائیور اور اس کا ساتھی کھانا کھا رہے تھے جبکہ مجھ سمیت میرے چند دیگر رشتہ دار بھی وہیں چار پائیوں پہ بیٹھے ہوئے تھے. کھانا کھانے کے بعد انہوں نے برتن اوپر تلے ترتیب سے رکھتے ہوئے اجازت چاہی تو ماموں جان نے انسے مہمانوں کو دوسرے شہر سے گھر پہنچانے کا معاوضہ پوچھا تو ان میں سے ایک جو قدرے بڑی جسامت کا تھا کہنے لگا کہ "جنے دل کرے دے چھڈو ، متھہ تے بندیاں نال لگدا ایے، پیسیاں دی کیڑھی گل ایے؟"
اس کے بعد کیا مکالمہ ہوا مجھے یاد نہیں لیکن ایک جملہ کہ" واسطہ تو انسانوں سے پڑتا ہے " نے حیرت میں مبتلا کر دیا. ایک ان پڑھ اور گاؤں کے معمولی سے ڈرائیور کی بات نے دل میں گھر کر لیا. گھر کیوں نہ کرتی جس خوبصورت انداز سے اس نے انسان کو پیسے سے الگ کیا وہ لاجواب تھا. بھلے ہی اس نے یہ بات مروت میں ہی کہی ہو مگر وزن میں بھاری تھی. میرا  انتہائی قلیل مشاہدہ بتاتا ہے کہ دفتروں میں موجود سپاٹ چہروں کے حامل وہ"  ہندسے" جو ہندسوں میں اضافہ کمی کرتے کرتے صبح کو شام اور شام کو صبح کرتے رہتے ہیں، انسان کو ایک ID نمبر سے پہچانتے ہیں، انہی ہندسوں میں معاملات طے کرتے ہیں، انہی ہندسوں سے انسان کی قیمت طے کرتے ہیں واقعی انسان نہیں ہیں کیونکہ انکا" متھہ بندیاں نال نہیں لگدا، پیسیاں نال لگدا ایے ".
غرور، تکبر، اکڑی گردن، قہر آلود نگاہیں اور حقارت بھرا رویہ رکھنے والے احساسات کی چاشنی سے عاری دفتری ملازم یعنی " ہندسے "جنہیں ہمیں باامر مجبوری" انسان "قرار دینا پڑتا ہے، ایک ایسی سوچ کا شکار ہوتے ہیں جو اپنے اندر موجود احساس کمتری کا ازالہ دوسرے کے احساس کو کچل کر کرتے ہیں. انا کا ایک طوفان ان کے رگ و پے میں بہتا ہوا دل کے کونے کونے میں سے احساس کو کھرچ ڈالتا ہے. حیرت ہوتی ہے کہ وہ انسان کو ہندسوں  میں کیسے تول لیتے ہیں، مجھے بھی اس مقام حیرت سے گزرنا ہے کیونکہ شاید سلسلہ تعلیم کے بعد مجھے بھی گزرے موسم کے کپڑوں کی طرح احساسات و جذبات کی کنڈلی کو پرانی آہنی پیٹی میں رکھ کر ایک ہندسہ بن کر ساری زندگی ہندسوں کا طواف کرنا ہے.....!
تحریر
ملک انس اعوان